آنسو

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔

آنْسُو {آں + سُو} (سنسکرت)

اکشو، آنْسُو

سنکسرت میں اصل لفظ اکشو ہے اور اس سے ماخوذ اردو میں آنسو مستعمل ہے۔ فارسی میں اشک ہے اور ہندی میں آنجھو ہے اغلب امکان ہے کہ سب کا ماخذ سنسکرت ہی ہے اردو میں 1803ء کو "گنج خوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

جمع غیر ندائی: آنْسُوؤں {آں + سُو + اوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. پانی کا وہ قطرہ جو غم تکلیف یا خوشی کی شدت میں یا شدید کھانسی اور قہقہے کے وقت آنکھوں سے نکلے، اشک، ٹسوے۔

"وہ صبح کو اٹھ اٹھ کے روتی اور یوں ٹپ ٹپ آنسو گراتی ہیں جیسے پتیوں پر سے شبنم کی بوندیں گرتی ہوں۔"، [1]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

Tear, tears

[ترمیم] مترادفات

آنْجھُو، اَشْک، ٹِسْوَہ، ٹَسْوا، آبِ چَشْم،

[ترمیم] مرکبات

آنْسُو ڈھال

[ترمیم] روزمرہ جات

آنسووں سے منہ دھونا 

زار و قطار رونا، اتنا رونا کہ آنسووں سے منہ تر ہو جائے۔

؎ عاشور کی سحر کو شہ بیکس و غریب منہ آنسووں سے دھوتے تھے پانی نہ تھا نصیب، [2]

آنسووں کا تار باندھنا 

لگاتار زار و قطار رونا

؎ خلق تجھ سے بے خبر ہے دے خبر خالق کو تو تار برقی گر نہیں ہے آنسووں کا تار باندھ، [3]

آنسووں کا تار بندھنا 

پھوٹ پھوٹ کر رونے سے لگاتار آنسو بہنا۔

قرآن مجید کی چند آیتیں زبان مبارک سے ادا ہوئیں اور اس کے بعد آنسووں کا تار بندھ گیا۔"، [4]

آنسووں میں نہانا 

زار زار رونا

وہ بے اختیار ہو کر ایسی روئی کہ آنسووں میں نہا گئی۔"، [5]

آنسو گرانا 

دل چاہتا تھا کہ وہ ایک دفعہ شوہر کی قبر پر بیوگی کے آنسو گرائے۔"، [6]

آنسو گرنا 

؎ اس کی حسرت تھی کہ جتنے آنکھ سے آنسو گریں جذب صادق کے اثر سے سب در شبنم بنیں، [7]

آنسو نکل آنا 

آنکھوں میں آنسو آ جانا، آنسو بھر آنا۔

؎ ہمشکل نبی کھا کے جو برچھی کا پھل آئے دل لاکھ سنبھالا مگر آنسو نکل آئے، [8]

آنسو نکل پڑنا 

یکایک (بے حد خوشی یا غم سے) آنکھوں میں آنسو آ جانا۔

خدا جانتا ہے میرے تو آنسو نکل پڑے"، [9]

آنسو نکلنا 

رونا، آنسو بہنا، آنسو ٹپکنا۔

؎ فوج اعدا سے وہ غازی صفت جو نکلے صف مژگاں کو الٹتے ہوے آنسو نکلے، [10]

آنسو چلنا 

بے اختیار آنکھوں سے آنسو چلنے لگے۔"، [11]

آنسو خشک ہونا 

رونا نہ آنا، انتہائی رنج و غم یا صدمے میں بھی ڈر یا حیرت وغیرہ سے آنسو نہ نکلنا۔

؎ ہوے خشک کم بخت شبنم کے آنسو نہ کچھ اوس اس نے بھی گلچیں پہ ڈالی، [12]

آنسو دینا 

{ علم الحساب } شمع کی پگھلی ہوئی چربی کا بوند بوند ہو کر گرنا۔

؎ منظور روح کو نہیں افشائے راز عشق آنسو ہماری شمع لحد کیا مجال دے، [13]

آنسو ڈبڈبانا 

لڑکی کے آنسو ڈبڈبا آئے۔"، [14]

آنسو ڈھلنا 

لگاتار آنسو بہنا۔

؎ درے جو کھائے چار قدم بھی نہ چل سکے منکا ڈھلا پہ خوف سے آنسو نہ ڈھل سکے، [15]

آنسو سوکھ جانا 

؎ شدت غم کا تقاضا تھا کہ رو اے گلرو ظلم کے ڈر سے مگر سوکھ گئے تھے آنسو، [16]

آنسو بہانا 

رونا

سدا نام رہے اللہ کا، دیکھ لو سب کچھ فنا ہو گیا اور ٹوٹی پھوٹی دیواریں کھڑی آنسو بہا رہی ہیں۔"، [17]

آنسو بہنا 

آنسو جاری ہونا۔

حادثے کی خبر سنتے ہی گھر بھر کے آنسو بہنے لگے۔"، [18]

آنسو بھر آنا 

آبدیدہ ہونا، ایسا محسوس ہونا کہ اب روئے۔

؎ بھر آئے پھول کے آنسو پیام شبنم سے کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے، [19]

آنسو بھر بھر کے رونا 

زار و قطار گریہ کرنا، پھوٹ پھوٹ کے رونا۔

؎ کیا کیا نہ جدا دوست ہوئے پل کے جھپکتے بھر بھر کے میں آنسو غم احباب میں رویا، [20]

آنسو بھر لانا 

آبدیدہ ہو جانا، رونے کے قریب ہونا۔

جب لکھنو کا ذکر آتا تھا تو ٹھنڈی سانس بھرتے تھے اور آنکھوں میں آنسو بھر لاتے تھے۔"، [21]

آنسو ابلنا 

دل بھر آنے پر یکایک آنسو نکل پڑنا، بے اختیار رو پڑنا۔

لاچی کی آنکھوں میں آنسو ابل پڑے۔"، [22]

آنسو امڈنا | امنڈنا 

کثرت سے آنسو بہنا۔

؎ تھرا کے بس کھڑے کے یو نہیں رہ گئے کھڑے منہ سے نہ کچھ کہا مگر آنسو امڈ پڑے، [23]

آنسو آنا 

کلیجہ امڈ کر آنسووں کا پلکوں پر آ جانا، آنکھوں سے آنسووں کا گرنا، آبدیدہ ہونا۔"

خدا جانے کیا بات یاد آئی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے۔"، [24]

آنسو تھمنا 

گریہ موقوف ہو جانا۔

؎ صبرو شکیب کرنے لگے سینہ میں خروش آنسو تھمے، گئے ہوے پھر آئے سب کے ہوش، [25]

[ترمیم] فقرات

آنسووں سے پیاس نہیں بجھتی 

رونے دھونے سے کام نہیں چلتا، اظہار غم سے دل کی بھڑاس نہیں نکلتی۔

وہ صحبتیں اور تقریریں جو یاد کرتے ہو ..... مجھ سے خط پر خط لکھواتے ہو، آنسووں پیاس نہیں بجھتی، یہ تحریر تلافی اس تقریر کی نہیں کر سکتی۔"، [26]

آنسو ایک نہیں کلیجہ ٹوک ٹوک 

مکاری کی ہائے ہائے ہے، دردمندی نہیں محض بناوٹ ہے۔ (امیراللغات، 192:1)

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1923ء، مضامین شرر، 1، 401:2 )
  2. ( 1971ء، مرثیہ یاور اعظمی، 7 )
  3. ( 1921ء، اکبر، کلیات، 168:1 )
  4. ( 1923ء، سیرۃ النبی، 474:3 )
  5. ( 1904ء، سوانح عمری ملکہ وکٹوریا، 161 )
  6. ( 1915ء، گرداب حیات، 30 )
  7. ( 1929ء، مطلع انوار، 55 )
  8. ( 1942ء، مرثیہ منظور رائے پوری، 12 )
  9. ( 1908ء، صبح زندگی، 128 )
  10. ( 1975ء، مرثیہ ہلال نقوی، 9 )
  11. ( 1924ء، نوراللغات، 148:1 )
  12. ( 1918ء، فردوس تخیل، 178 )
  13. ( 1857ء، سحر (امان علی)ریاض سحر، 102 )
  14. ( 1945ء، الف لیلہ و لیلہ، 43:6 )
  15. ( 1964ء، مرثیہ فیض بھرتپوری، 21 )
  16. ( 1912ء، شمیم، مرثیہ، 9 )
  17. ( 1917ء، رہنمائے سیر دہلی، حسن نظامی، 24 )
  18. ( 1924ء، نوراللغات، 147:1 )
  19. ( 1908ء، بانگ درا، 117 )
  20. ( 1784ء، میر حسن، دیوان، 32 )
  21. ( 1900ء، امیر، مکاتیب امیر، 17 )
  22. ( 1962ء، ایک عورت ہزار دیوانے، 49 )
  23. ( 1972ء، مرثیہ یاوراعظمی، 11 )
  24. ( 1924ء، نوراللغات، 147:1 )
  25. ( 1897ء، دیوان ڈاکٹر مائل، 306 )
  26. ( 1859ء، خطوط غالب، 279 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter