ابتر

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android


اَبْتَر {اَب + تَر} (عربی)

ب ت ر، اَبْتَر

ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں 1611ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی

جمع غیر ندائی: اَبْتَروں {اَب + تَروں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. منتشر، پراگندہ۔

؎ لکھ دیا ہم نے انھیں اپنی پریشانی کا حال

واہ کیا سمجھا ہے ان کی زلف ابتر کا جواب [1]

جس میں ربط یا ترتیب نہ ہو، بے ترتیب، انمل بے جوڑ، نامربوط۔

؎ بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر [2]

2. پریشان و حیران۔

؎ عشق کے پنتھ منے ہلجے ہے مانی منگل

عاقلاں دیکھ انوں کوں ہوے ہیں سب ابتر، [3]

3. خراب، ردی، خستہ، تباہ و برباد۔

"زمانے کی نیرنگی سے اس طبیب حاذق کا احوال ابتر ہوا"۔، [4]

4. اخلاقی طور پر بد، آوارہ، بدشعار، بدچلن۔

"آپے سے باہر ہو گئیں، نگوڑیاں ابتر ہو گئیں"، [5]

5. { گنجفہ } بے میر کی بازی جو رلا ملا دی جاتی ہے (بانٹ میں میر جب کسی کھلاڑی کے حصّے میں نہیں آتا تو پتے ملا دیے جاتے ہیں)۔

؎ جیتوں قمار عشق میں ناصح میں کس طرح

اس گنجفے میں بازی ہے ابتر لگی ہوئی، [6]

6. بے اولاد، لاولد، منقطع النسل۔

؎ کہتے تھے ابتر میان خاص و عام

دم بریدہ بے پسر ہے اس کا نام، [7]

7. ایک مہلک سانپ جو کوتاہ دم ہوتا ہے۔

"اب نام سانپوں کے جس قدر یاد آتے ہیں حوالہ قلم کیے جاتے ہیں ..... ابتر، ناسر، این ..... الخ"۔، [8]

8. { عروض }وہ رکن شعر جس میں بتر (زحاف) واقع ہو، جیسے : فعولن سے فع۔

"بعض اس کو بجائے ابتر کہنے کے محذوف مقطوع کہتے ہیں"۔، [9]

[ترمیم] مترادفات

ناقِص، پَراگَنْدَہ، پَریشان، آوارَہ، لَنْڈورا، مَحْذُوف، اَپھَل

[ترمیم] اصطلاح ابن العربی

شیخ اکبر نے لفظ ابتر کو اس کے لغوی معنی میں استعمال کیا ہے، فرماتے ہیں: ابتر وہ جانور ہوتا ہے جس کی دم نہ ہو، اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ (الکوثر: 3) بیشک آپ کے دشمن کا ہی کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔ یعنی اس کی اولاد میں ایسا کوئی نہ ہو گا جس کا فائدہ اس کو بھی پہنچ سکے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یا اس کا کوئی نیک بیٹا ہو جو اس کے لیے دعائے خیر کرتا ہو۔ چاہے یہ بیٹا ہو یا پوتا، مرد ہو یا عورت۔ [10]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1935ء، ناز، کلیات، 60 )
  2. ( 1936ء، ضرب کلیم، 91 )
  3. ( 1611ء، قلی قطب شاہ، کلیات، 111:2 )
  4. ( 1746ء، خرد افروز و دلبر، 358 )
  5. ( 1901ء، راقم دہلوی، عقد ثریا، 17 )
  6. ( 1871ء، منتہی، دیوان، 178 )
  7. ( 1780ء، تفسیر مرتضوی، 250 )
  8. ( 1873ء، تریاق مسموم، 4 )
  9. ( 1925ء، بحرالفصاحت، 148 )
  10. (فتوحات مکیہ)
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter