ابدال

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android


اَبْدال {اَب + دال} (عربی)

ب د ل، اَبْدال

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل بدیل کی جمع ہے۔ اردو میں بطور واحد ہی مستعمل ہے۔ 1718ء کو "قصہ خواجہ منصور حلاج" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (واحد، جمع)

واحد: بَدِیل {بَدِیل}

جمع غیر ندائی: اَبْدالوں {اَب + دا + لوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. { بطور جمع، بطور نکرہ } اولیاء اللہ کے دس طبقوں میں سے چالیس (اور بعض کے نزدیک ستر یا سات) اولیا کا ایک گروہ جن سے ہفت اقلیم کی نگرانی متعلق بتائی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ یہ جو شکل چاہتے ہیں بدل لیتے ہیں اور جہاں سے سفر کرتے ہیں وہاں ایک شخص اپنے بدلے اپنی صورت کا چھوڑ دیتے ہیں، جب ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو خدائے تعالٰی کے حکم سے دوسرا اس کی جگہ مامور ہو جاتا ہے، امام راغب اصفہانی کے نزدیک ان کو ابدال اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئی ہیں۔

؎ کچھ نہ ابدال سے پہنچا ہے نہ اوتار سے فیض

جس کو پہنچا ہے سو پہنچا ہے تری یاد سے فیض، [1]

2. { مجازا } نیک اور صالح اشخاص، بزرگ لوگ۔

"ان لوگوں سے صحبت رکھیں گے جو کہ سعید، حکیم، فاضل، ابدال.... صالح، عارف ہیں"، [2]

3. { بطور واحد } گروہ ابدال کا ایک فرد۔

"ولادت کے بعد ابدالوں کی وہ جماعت .... مبارکباد دینے آئی"، [3]

4. { بطور معرفہ } افغانوں کے ایک جرگے کا مورث اعلٰی ابدال بن ترین، جو سلسلۂ چشتیہ کے ابدال (بزرگ) خواجہ ابو احمد کی صحبت اور خدمت کی بنا پر اس نام سے موسوم ہوا۔ (احمد شاہ ابدالی اس کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے ابدالی کہلاتا ہے)۔

[ترمیم] اصطلاح ابن العربی

شیخ اکبر فتوحات مکیہ کے باب نمبر 16 میں فرماتے ہیں: “راہ طریقت میں ابدال ایک مشترک لفظ ہے جس کا اطلاق یہ لوگ ایسے شخص پر کرتے ہیں جس کے اوصافِ مذمومہ اوصافِ محمودہ سے بدل دئیے گئے ہوں۔ یہ ایک مخصوص عدد کے لوگ ہوتے ہیں: کچھ کے نزدیک یہ کسی خاص خوبی کے حامل 40 اشخاص ہوتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ صرف سات ہیں۔ پس جو لوگ سات ابدال کے قائل ہیں ان میں سے کچھ انہیں اوتاد سے الگ سات اشخاص بتاتے ہیں جبکہ دوسرے چار اوتاد کو ملا کر سات بناتے ہیں۔ (اصل بات یہ ہے کہ) ابدال سات ہی ہیں، ان میں سے چار اوتاد ہیں، دو امام ہیں اور ایک قطب ہے اور یہ سب ابدال کہلاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ابدال اسی لیے کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کوئی انتقال کر جاتا ہے تو اس کے جگہ کوئی دوسرا لے لیتا ہے۔ کچھ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا نام ابدال اس وجہ سے ہے کہ ان کو ایسی قوت دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ جہاں چاہتے ہیں اپنا بدل چھوڑ جاتے ہیں، جسے وہ بخوبی جانتے ہیں اور اگر یہ بدل بغیر ان کے علم کے ہو تو ایسا امت کے نیک لوگوں یا افراد میں سے تو ہو سکتا ہے لیکن ابدال میں سے نہیں۔” [4]

[ترمیم] ابدال سات ہیں

فتوحات مکیہ کے باب نمبر 73 میں شیخ اکبر فرماتے ہیں: “ابدال سات اشخاص ہیں، جو نہ کم ہوتے ہیں نہ زیادہ، اللہ تعالی نے ان کو ساتوں اقالیم کی حفاظت پر مامور کیا ہے، ہر بدل کی ایک اقلیم ہے جہاں اس کی ریاست ہے۔ ان میں سے ایک ابراہیم خلیل اللہ  کے قدم پر ہوتا ہے جس کی ریاست پہلی اقلیم ہے۔ دوسرا اقلیم کا متولی موسیٰ کلیم اللہ  کے قدم پر ہے، تیسری اقلیم کا محافظ ہارون  کے قدم پر ہے ، چوتھی اقلیم والا ادریس  کے قدم پر ہے، پانچواں یوسف  کے قدم پر، چھٹا عیسیٰ  کے قدم پر اور ساتواں آدم کے قدم پر ہوتا ہے۔ (شیخ آگے فرماتے ہیں) ہم نے ان ساتوں ابدال سے مکہ میں حطیم حنابلہ کے پیچھے ملاقات کی اور میں نے ان سے بہتر صفات والے لوگ نہیں دیکھے۔ ” [5]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

change, exchange, substitution of one thing for another

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1951ء، حسرت، کلیات، 71 )
  2. ( 1810ء، اخوان الصفا، 173 )
  3. ( 1946ء، سوانح خواجہ بندہ نواز، 51 )
  4. (مخطوط: السفر – 2، ص 154۔ مطبوع: جلد – 1، ص 160)
  5. (مخطوط: السفر – 11، ص 70۔ مطبوع: جلد – 2، ص 7)
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter