بات

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔

بات {بات} (سنسکرت)

واتترا، بات

سنسکرت میں اصل لفظ ہے واتترا ہے اردو زبان میں اس سے ماخوذ بات مستعمل ہے ہندی میں بھی بات ہی مستعمل ہے دونوں کا ماخذ سنسکرت ہی ہے۔ 1599ء میں "کتاب نورس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مؤنث - واحد)

جمع: باتیں {با + تیں (یائے مجہول)}

جمع غیر ندائی: باتوں {با + توں (واؤ مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. لفظ، بول، کلمہ، فقرہ، جملہ، گفتگو، قول۔

؎ چلا جب یہ کہہ کر پکارا اسے

یہ بات اور پیغام بر رہ گئی، [1]

2. مقولہ، کہاوت۔

؎ زلف رخ پر جو چھٹی رات ہوئی یا نہ ہوئی

کیوں، نہ کہتا تھا مری بات ہوئی یا نہ ہوئی، [2]

3. امر، معاملہ۔

"آپ نے کتاب ..... بھیجنے کا وعدہ کیا تھا ..... آپ کے حافظے سے یہ بات اتر گئی۔"، [3]

4. خیال۔

"میرے دل میں اک بات آئی ہے۔"، [4]

5. ذکر، تذکرہ۔

؎ جو دیکھے گا روتے مجھے تم کو ہنستے

مری بات چھوڑو تمھیں کیا کہے گا، [5]

6. واقعہ، ماجرا، سرگزشت۔

؎ بات اک یاد آئی ہے مجھ کو

میری آنکھوں کے آگے گزری جو، [6]

7. خصوصیت، امتیاز۔

؎ آدمی کی زندگانی میں کوئی تو بات ہے

دو فرشتے لکھ رہے ہیں داستان زندگی، [7]

8. بحث، قیل و قال، حجت۔

؎ یہاں بات کی اب سوائی نہیں

نبی اور علی میں جدائی نہیں، [8]

9. سج دھج، ٹھاٹ۔

؎ ایسا دربار مگر تو نے نہ دیکھا ہو گا

بات یہ ان میں نہ ہو گی نہ یہ ساماں ہوں گے، [9]

10. خوبی، عمدہ صفت۔

؎ بے جس کے اندھیر ہے سب کچھ، ایسی بات ہے اس میں کیا

جی کا ہے یہ باؤ لاپن یا بھولی بھالی آنکھیں ہیں، [10]

11. حالت، کیفیت۔

"پانچ پیسوں کے لیے بلک رہی تھی ..... مجھے کیا خبر تھی کہ ..... اس کی یہ گت ہو جائے گی، میرے چلتے وقت گو وہ بات نہ رہی تھی مگر پھر بھی یہ ہدڑا تو نہ تھا۔"، [11]

12. طریقہ، روش، دستور، طور۔

"عیسائی مذہب کی ایک یہ بات بھی میرے ذہن میں کھٹکتی ہے۔"، [12]

13. آبرو، عزت، ساکھ، بھرم۔

"سید کاظم نے فاقے قبول کیے، مگر باپ کی بات کو ہاتھ سے نہ دیا۔"، [13]

14. منگنی، لڑکی کی شادی کا پیام سلام، بیاہ کی نسبت۔

"بچی کو دیکھ دیکھ کر اس کے ہوش اڑے جاتے تھے مگر کوئی بات ڈھنگ کی نہ ملتی تھی۔"، [14]

15. اصول؛ مقصد۔

؎ بے غرق ہوئے کوئی ابھرتا ہی نہیں ہے

جو بات پہ مرتا ہے، وہ مرتا ہی نہیں ہے، [15]

16. بھید، راز، رمز، نکتہ۔

؎ غوطے کھلواتی ہیں یہ رمزیں تری اے بحر حسن

تھاہ اک اک بات کی دو دوپہر ملتی نہیں، [16]

17. عہد، قول و قرار، قسم، پیمان۔

"کچھ ہی ہو، بات ہے تو سب کچھ ہے، اب تو جو عہد کر لیا، خدا نے چاہا تو اس فتنے کو کبھی منہ نہ لگاؤں گا۔"، [17]

18. عادت جاریہ، روزمرہ کا مشغلہ، معمول۔

؎ جھڑکی تو مدتوں سے مساوات ہو گئی

گالی کبھی نہ دی تھی سو اب بات ہو گئی، [18]

19. مآل، پھل۔

؎ دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی ساتھ لے

نیکی کا بدلا نیک ہے بد سے بدی کی بات لے، [19]

20. عندیہ، ما فی الضمیر۔

؎ ہاں ہاں تری بات اب میں سمجھی

ہے بات یہی قسم خدا کی، [20]

21. طرز بیان۔

؎ ایک مطلب ہیں بات کا ہے فرق

بت اسے کہیے یا خدا کہیے، [21]

22. معمولی چیز، ادنٰی سا کرشمہ، ادنٰی اور سہل کام۔

؎ تم جو بوسہ دو تو کھولوں میں دہن کا عقدہ

بات ہے باندھنا مضموں مجھے دقت کیا ہے، [22]

23. مدت قلیل، پلک جھپکنے کی مدت۔

؎ ناکام کا یوں کام، ملاقات میں بن جائے

برسوں کا جو بگڑا ہو وہ اک بات میں بن جائے، [23]

24. بہانہ، حیلہ۔

؎ محبت دل میں جب ہوتی ہے، انساں کیا نہیں کرتا

شکایت کی فقط اک بات ہے آزردہ ہونا تھا، [24]

25. امر نازیبا، ناشائستہ عمل، قابل اعتراض فعل۔

"اس نے تو ایسی بات کی، جس نے ہمارے خاندان کی عزت کو خاک میں ملا دیا۔"، [25]

26. نصیحت، پند، مشورہ۔

"کوئی ہے جو سو روپے میں ایک بات خریدے۔"، [26]

27. امراہم، قابل اعتنا (ہی کیا اور کوئی نہ کے ساتھ)۔

؎ بات ہی کیا ہے اک بلا نہ رہے

نہ رہے جان مبتلا نہ رہے، [27]

28. درخواست، التجا، حکم، فرمان۔

؎ جو کہا میں نے سمجھ سوچ کے وہ مان گئے

شکر ہے آج مری بات اکارت نہ گئی، [28]

29. کارنمایاں، امر عظیم۔

؎ کس تیغ کے ہو منہ سے وہ بات اس سے جو ہوئی

زخمی کے لب سے آہ جو نکلی تو دو ہوئی، [29]

30. ثبوت، دلیل، سبب۔

؎ بات کیا چاہیے جب مفت کی حجت ٹھہری

اس گنہ پر مجھے مارا کہ گنہ گار نہ تھا، [30]

31. صورت حال۔

؎ دن کٹ گیا فراق کا لو رات آگئی

میں جس سے ڈر رہا تھا وہی بات آگئی، [31]

32. لطف، مزہ۔

"آج ابھی سے بھوک لگ رہی ہے خدا کا شکر ہے رات کو نیند بھی اچھی آئے تب بات ہے۔"، [32]

33. فعل، کام۔

؎ ہونے کو تو کیا ان سے ملاقات نہ ہو گی

جس بات کی خواہش ہے وہی بات نہ ہو گی، [33]

34. گلہ، شکوہ، شکایت۔

"وقت نکل جاتا ہے بات رہ جاتی ہے۔"، [34]

35. حاجت، ضرورت۔

؎ جب زبانی مرے اور اس کے لگے ہونے کلام

پردہ جب اٹھ گیا پھر کیا رہی تحریر کی بات، [35]

36. خواہش، تمنا، آرزو۔

"یہ بات جی میں رہ گئی تم سے نہ مل سکے۔"، [36]

37. مرثیہ، حیثیت، منصب۔

؎ ہوں مقرب پہ فرشتوں کو یہ حاصل نہیں بات

ان سے رتبے میں فزوں تر ہے بس اللہ کی ذات، [37]

38. حادثہ، کیفیت، واردات۔

؎ کل سے وہ اداس اداس ہیں کچھ

شاید کوئی بات ہو گئی ہے، [38]

39. تدبیر، علاج۔

"مریض کی طبیعت ایسی خراب ہے کہ حکیم صاحب کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی۔"، [39]

40. معاملہ، مسئلہ، سوال۔

"یار دیکھنا! یہ تو تلوار چلنے کی بات ہے۔"، [40]

41. شے، چیز، سامان، اسباب۔

"تمھارے یہاں کس بات کی کمی ہے۔"، [41]

42. بولی، طعنہ، طنز، تشنیع۔

"مجھ کو کسی کی بات کی برداشت نہیں۔"، [42]

43. ضد، اڑ، ہٹ۔

؎ صبح ہوئی آتی ہے اور رات چلی جاتی ہے

تیری اب تک بھی وہی بات چلی جاتی ہے، [43]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

speech, language, word, saying, conversation, talk, gossip, report, discourse, new, tale, story, account; thing, affair, matter, business, concern, fact, case, circumstance, occurrence, object, particular, article, proposal, aim, cause, question, subject

[ترمیم] مترادفات

سُخَن، آواز، ماجْرا، مَضْمُون، طَلَب، لَفْظ، حَرْف، قِیل، قَول، گال، قال، مَنْطِق، کَلِمَہ، سُخَن، حَدِیث، کَلام،

[ترمیم] مرکبات

بات بے بات، بات سُنْنے کا دِماغ، بات سوچ سَمَجھ کے، بات کا اور چھور، بات کا بھید، بات کا چھِینْٹا، بات کا راجا، بات کا سَرْ پَیر، بات کا کَچّا، بات کا لَپْکا، بات کا ہیٹا، بات کی رِیت، بات کے شاخْسانے، بات کَرنے میں، بات کَہْتے، بات کَہْتے میں، بات کَہے کی بات کو، بات کَہے کی لاج، بات کی پَچ، بات کی پَرْوَرِش، بات کی جان، بات بات، بات بات پَر، بات بات میں، بات چِیت، بات کا بَتَنْگَڑ، بات کا پَکّا، بات کا پُورا، بات کا سَچّا، بات کا سَر پَیر، بات کو، بات کَہْنے میں، بات کی بات، بات کی بات میں، بات کی تاب، بات کی تَہ، بات کی گَرِفْت، بات کی لاج، بات میں، بات میں بات، باتوں باتوں میں، باتوں کا تار، باتوں کا جَمْع خَرْچ، باتوں کا دھَنی، باتوں کی جھَڑی، باتوں میں، باتوں ہی باتوں میں

[ترمیم] روزمرہ جات

بات پکڑنا 
نکتہ چینی کرنا، گرفت کرنا

ایسے ہی مرد بات پکڑ لیتے اور حیلہ ڈھونڈتے ہیں۔"، [44]

کسی ایک بات پر اڑ جانا اور کوئی دوسرا پہلو نہ دیکھنا۔

؎ صغرا نے کہا صاحبو کیا کرتے ہو گفتار اک بات پکڑ لی کہ یہ بیمار ہے بیمار، [45]

بات پکی کرنا 

معاملہ پختہ کرنا، منگنی کرنا۔

زید اور ہندہ نے اپنے لڑکے کی بات آج پکی کی ہے۔"، [46]

بات (پی جانا | پینا) 

بات کو سن کر برداشت کرنا۔

جو بات سن کر پی جائے وہ عالی ظرف گمبھیر ہے۔"، [47]

بات پیدا کرنا 
نیا نکتہ نکالنا، نیا گوشہ دریافت کرنا، نیا پہلو سامنے لانا۔

لسان العصر بولے کہ جی کیا بات آپ نے پیدا کی ہے۔"، [48]

کمال حاصل کرنا، تاثیر حاصل کرنا۔

؎ اتنی تو بات ضبط میں پیدا کرے کوئی وہ خود کہیں کہ عرض تمنا کرے کوئی، [49]

بات پر چلنا 

ریت قائم رکھنا، کہے پر عمل کرنا۔

ایک مرتبہ ان کی بات پر چل کے میں نے سخت نقصان اٹھایا۔"، [50]

بات پر خاک ڈالنا 

کسی معاملے سے درگزر کرنا، کسی مسئلے کو دبا دینا، بات کو سن کر بھلا دینا۔

جو ہونا تھا ہو گیا اب اس بات پر خاک ڈالو۔"، [51]

بات پر قائم رہنا 

قول پر مستقل رہنا۔

مخالف جماعت کی طرف سے اون پر بہت زور ڈالا گیا لیکن وہ اپنی بات پر قائم رہے۔"، [52]

بات پر مرنا 

عزت یا قول پر قربان ہو جانا۔

شاہی میں بات پر مرنے کو کھیل سمجھتے تھے۔"، [53]

بات پرائی ہونا 

راز آشکارا ہونا، بات کا عام ہونا۔

؎ دل میں جب تک رہی تو اپنی تھی منہ سے نکلی ہوئی پرائی بات، [54]

بات پڑنا 

دشواری پیدا ہو جانا، بات پہنچنا۔

وعدہ کر لیجیے کہ اگر کوئی بات پڑ گئی تو آپ ہر طرح میرا ساتھ دیں گے۔"، [55]

بات پر اڑنا 

قول پر قائم رہنا، بے جا اصرار کرنا۔

خلیفہ نے ..... اس کو بہت کچھ ترغیب و ترہیب دی، لیکن وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔"، [56]

بات پر آنا 

ضد پیدا ہو جانا، ٹھان لینا، آبرو کا پاس کرنا۔

؎ کس سے رکتی ہوں، جب اپنی بات پر آتی ہوں میں سلطنت کے سر کا گودا تک چبا جاتی ہوں میں، [57]

بات پر بات یاد آنا 

ایک ذکر سے اسی قسم کے دوسرے ذکر کا دھیان آنا، ایک بات کے سلسلے سے کوئی اور بات حافظے میں تازہ ہو جانا۔

؎ بات پر بات یاد پھر آئی لکھ چکا تھا اگرچہ ساری بات، [58]

بات پر جانا 
یقین کرنا، بہکائے میں آنا۔

؎ یہ ترک راہ و رسم وفا کا سبب ہوا ناصح کی بات پر جو گئے ہم غضب ہوا، [59]

مطلب سمجھنا، مفہوم لینا۔

؎ شکوہ جور مری عرض کرم کو جانا آہ کس بات پر وہ شوخ ستمگار گیا، [60]

بات پر جان دینا۔ 

اپنا قول پورا کرنے یا عزت کی حفاظت کرنے کے لیے جان تک کی پروا نہ کرنا۔

روپیہ عزیز کرنا کیسا وہ بات پر جان دینے والے لوگ ہیں۔ اون سے مقابلہ آسان کام نہیں ہے۔"، [61]

بات بیٹھنا 

بات کا دلنشیں ہونا، بات کا مناسبت رکھنا۔

داد دیجیے گا ..... بات ..... کیا برمحل بیٹھی ہے۔"، [62]

بات بیچ میں سے لینا 

بات کاٹنا، دخل در معقولات۔

میں بولا اور اس نے بیچ میں سے بات لی۔"، [63]

بات بھی نہ پوچھنا 

کسی کی طرف سے بے اعتنائی برتنا، نظر انداز کرنا۔

؎ نہ پوچھی اہل وطن نے تو بات بھی اے مہر ہمیں کلام تھا مشتاق سب کلام کے ہیں، [64]

بات پانا 

مفہوم سمجھ لینا، خوبی نظر آنا۔

آپ نے اس چھڑی میں کیا بات پائی جو لوٹ گئے۔"، [65]

بات پتھر کی لکیر ہونا 

بہت پکی بات ہونا، مستحکم قول ہونا، مضبوط وعدہ ہونا۔

؎ ہمیں کنگھی بھی کریں گے ہمیں دیکھیں گے جوئیں اے صنم لیکھ ہے پتھر کی اگر تیری بات، [66]

بات پچنا 

بات کا دل ہی میں رہنا۔

؎ راز میرا عدو سے کہتے ہو بات پچتی نہیں ذرا تم سے، [67]

بات بڑھانا 

بحث یا جھگڑے کو طول دینا، عزت قائم رکھنا

اچھا اب بات نہ بڑھاو، بتا دو تو پھر وہاں گئے تو کیا ہوا?"، [68]

بات بگڑنا 
کام خراب ہونا، آفت میں گھر جانا

آنکھوں میں تجسس تھا، دماغ میں کاوش لیکن بات کچھ ایسی بگڑی تھی کہ بنائے نہ بنتی تھی۔"، [69]

بھرم باقی نہ رہنا، بے لطفی پیدا ہونا، ان بن ہو جانا۔

؎ جب سے بگڑی بات ادھر آتے، ادھر جاتے ہیں لوگ لگ چکی ہے آگ جو، اور اس کو بھڑکاتے ہیں لوگ، [70]

بات بنانا 
کسی الجھے معاملے کو سلجھانا، بگڑے کام کو بنانا۔

؎ ہونے دو ہو رہے ہیں جو الفت کے تذکرے بگڑو گے تم تو بات بنائی نہ جائے گی، [71]

جھوٹ بولنا، غلط بات کہنا، حیلہ کرنا۔

؎ طرفہ لسّان ہیں وہ وعدہ خلافی کے سبب جب بگڑتا ہوں کوئی بات بنا لیتے ہیں، [72]

ساکھ پیدا کرنا، عزت قائم کرنا، بھرم رکھنا۔

؎ یہ بات ہے درست، بنا گھر بگڑ گیا لیکن خدا نے بات بنائی حسین کی، [73]

شیخی بگھارنا، بڑا بول بولنا۔

؎ خاک کا پتلا بھی یوں باتیں بناتا کیا مجال راز ہے پنہاں کوئی اس بولتی تصویر میں، [74]

کلام کو طول دینا۔

؎ جھوٹ ہو سچ ہو مگر بات ہو تیرے منہ کی چپ نہ رہنا کہیں او بات بنانے والے، [75]

بات بن پڑنا 
موقع ہاتھ آ جانا، اتفاقی کامیابی حاصل ہو جانا۔

الحمدللہ کہ یہ بات خاطر خواہ بن پڑی۔"، [76]

تدبیر سمجھ میں آنا، کچھ ہو سکتا۔

؎ کچھ بات بن پڑی نہ دل داد خواہ سے کیا جانے کیا وہ کہہ گئے نیچی نگاہ سے، [77]

بات بننا 
حسب مراد صورت پیدا ہونا، کام چلنا، کامیابی ہونا، حالات کا سازگار ہونا۔

؎ وہ جو بگڑے رقیب سے حسرت اور بھی بات بن گئی دل کی، [78]

عزت قایم ہونا، وقار حاصل ہونا۔

آبدار کی بات ایسی کیوں بنی ہوئی ہے۔"، [79]

بات آنچل میں باندھنا 

نصیحت کو بخوبی ذہن نشین کر لینا، کوئی قول یا نکتہ یاد رکھنا۔

میری بات آنچل میں باندھ رکھو، یہ دنیا والے ایک کی دس بنائیں گے۔"، [80]

بات آئی گئی ہونا 

معاملے کا رفع دفع یا رفت گزشت ہونا؛ بھول میں پڑ جانا۔

آج تو اتنا ہی ذکر چھڑ کر بات آئی گئی ہوئی لیکن آگے اس کے بڑے بڑے بتنگڑے بنے۔"، [81]

بات بات میں موتی پرونا 

نہایت سلیقے سے بات کرنا، خوش اسلوبی سے گفتگو کرنا۔

؎ کی گفتگوئے یار بڑی آب و تاب سے قاصد تو بات بات میں موتی پرو گیا، [82]

بات باقی رہنا 

تذکرہ رہ جانا، اثر باقی رہنا، یادگار رہ جانا۔

؎ وقت تو جاتا رہا پر بات باقی رہ گئی ہے یہ جھوٹی دوستی اب ہم نے جانی آپ کی، [83]

بات بالا ہونا۔ 

؎ ہے اگر قابل تعظیم تو ذات ان کی ہے بات بالا جو کسی کی ہے تو بات ان کی ہے، [84]

بات بدلنا 

گفتگو کا رخ پھیر دینا، کہے سنے کے خلاف کرنا۔

اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، فوراً بات بدلی۔"، [85]

بات اونچی ہونا 

مرتبہ بلند ہونا، بات کا سبقت لے جانا۔

؎ اونچی ہو اپنی بات چھلک جائے اپنا جام تم اپنے حلوے مانڈے سے رکھتے ہو صرف کام، [86]

بات (آ پڑنا | آن پڑنا) 

مشکل پڑنا، بن جانا، عزت کا سوال پیدا ہو جانا۔

دیکھیے کل کیا ہوتا ہے اس لیے کہ دو سردارو میں بات آ پڑی ہے۔"، [87]

بات آ رہنا 

نتیجہ نکلنا، منحصر ہو جانا۔

زہرا اور خالد میں جھگڑا ہوتے ہوتے اب تو اس پر بات آ رہی ہے کہ میں فیصلہ کر دوں۔"، [88]

بات آگے آنا 

کہا پورا ہونا، پیش گوئی درست ثابت ہونا۔

اس وقت شہزادہ سمجھا دوسری زک اٹھائی توتے کی بات آگے آئی۔"، [89]

بات آنا 
الزام آنا، کہنے کا موقع پیدا ہونا۔

اب بات آ گئی ہے تو میں بھی کہے دیتا ہوں کہ ہم لوگوں کا فیصلہ آپ نے انصاف سے نہیں کیا۔"، [90]

منگنی کا پیام آنا، چوٹ پڑنا۔

لڑکی کے واسطے بات آنا اور لڑکے کے لیے بات جانا پیغام شادی کے لیے مستعمل ہے۔"، [91]

بات اٹھنا 

بات اٹھانا کا فعل لازم۔

؎ واہ رہے ان کی نازکی کی بات ان سے اٹھتی نہیں کسی کی بات، [92]

بات اڑانا 
مطلب سے پہلو بچانا، التجا کو ٹالنا۔

؎ بات کرنے کا طریقہ کوئی تم سے سیکھے بات مطلب کی اڑا دیتے ہو اللہ اللہ، [93]

خبر مشہور کرنا، افواہ پھیلانا۔

یہ تیری ہی کاروائی ہے تو نے ہی ..... یہ بات اڑائی ہے۔"

بات اڑنا 

خبر مشہور ہونا، بات کا ٹلنا۔

میں نے ذکر نکالا تھا لیکن تم ایسا بیچ میں بول اٹھے کہ وہ بات اڑ گئی۔"، [94]

بات الٹنا 

ردکرنا، کہہ مکرنا۔

تم سب کے سامنے کہہ چکے اب بات الٹنے سے کیا ہوتا ہے۔"، [95]

بات اور پر ڈھالنا 

اپنا قصور دوسرے کے سر تھوپنا۔

صنوبر نے خفا ہو کر کہا شمیمہ تم میں یہ کیا بری عادت ہے کہ اپنی بات اور پر ڈھالتی ہو۔"، [96]

بات اٹکانا 

کسی معاملہ یا مسئلہ کو الجھانا، الجھن یا الجھاوے میں ڈالنا۔

انکار بھی نہیں کیا، بات کو اٹکا رکھا ہے۔"، [97]

بات اٹھا رکھنا 

کسی معاملے کو دوسرے وقت پر ٹال دینا، کسی امر کو معرض التوا میں ڈال دینا۔

؎ وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے، [98]

بات اٹھانا 
بدکلامی برداشت کرنا، جھڑکی سہنا۔

؎ ستم ہے تیرے لیے کھیل اور گالی بات اسی کی بات ہے، جس نے تری اٹھا لی بات، [99]

گفتگو کی ابتدا کرنا، تذکرہ چھیڑنا۔

بہن تمھیں نے خود یہ بات اٹھائی اور اب تمھیں چپ ہو۔"، [100]

بات اٹھا نہ رکھنا 

کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا، ہر تدبیر سے کام لینا۔

اگر فلورا وہاں مر گئی، تو پھر تمھاری دشمنی میں کوئی بات اٹھا نہ رکھوں گی۔"، [101]

بات کہہ نہ آنا 

بات کہتے نہ بن پڑنا، بات کرنے کا سلیقہ نہ ہونا۔

؎ ہر چند اس نے میری طرف سے بنائی بات قاصد کو اس کے سامنے کچھ کہہ نہ آئی بات، [102]

بات کاٹنا 

دلیل سے رد کرنا، دوسرے کی گفتگو کے بیچ میں بولنا۔

"برجو نے بات کاٹ کر کہا، اچھا ان سب جھگڑوں کا تو فیصلہ ہوتا رہے گا۔"، [103]

بات کر کے گنہگار ہون۔ 

بولتے ہی قصوروار ٹھہرایا جانا، لب کھولتے ہی بات پر لے دے ہونے لگنا۔

"خدا کے واسطے طاہر بھائی اب خاموش ہو جائیے میں تو آپ سے بات کر کے گنہگار ہو جاتی ہوں۔"

بات کرنا 

شکوہ کرنا، گلہ کرنا

؎ وہ دیکھتے ہی بزم میں مجھ کو بگڑ گئے کچھ بات بھی تو کی نہیں یہ بات کیا ہوئی، [104]

بات کو پلو میں باندھنا 

یاد رکھنا، کبھی نہ بھولنا، زندگی کے ہر دور میں لائحہ عمل بنانا۔

؎ دانا نہیں جو خود کو بلاءوں میں راندھ لے اس میں میرے منہ کی بات کو پلو میں باندھ لے، [105]

بات گول کرنا 

معاملے کو ٹال دینا۔

"بھئی میری صلاح تو یہ ہے اس بات کو گول ہی کر جانا۔"، [106]

بات چھیڑنا 

تذکرہ شروع کرنا، ذکر چلانا۔

"دشمنان عقل و دیں کی جانب سے کوئی تازہ قابل ردو قبول بات نہ چھیڑی جائے۔"، [107]

بات دل میں چبھنا 

کسی بات کا دل میں گہرا اثر کرنا یا ہونا۔

؎ اک بات تھی کہ چبھ گئی دل میں مرے عزیز بھولوں گا میں ہنسی نہ شکستہ قبور کی، [108]

بات رکھنا 

الزام دینا، اپنی وضعداری کو نباہنا، اپنا اثر قائم و برقرار رکھنا، اوروں سے متاثر نہ ہونا۔

"میرا تو قول بیٹھے ہر صحبت میں مگر بات اپنی رکھے۔"، [109]

بات رہ جانا 

بھرم یا عزت قائم رہ جانا، یاد باقی رہ جانا۔

؎ ایک دن ہم نہ ہونگے دنیا میں اور رہ جائے گی ہماری بات، [110]

بات زبان یا منہ سے نکلنا اور پرائی ہو جانا 

کسی بات کا مشہور ہو جانا، کسی معاملے کی تشہیر کو روکنا قابو سے باہر ہو جانا۔

؎ افشائے راز سے مری تقدیر سو گئی منہ سے جو بات نکلی پرائی ہو گئی، [111]

بات کا بتنگڑ بنانا 

ذرا سی بات کو ناخوشگوار حد تک طول دینا، سیدھی بات میں جھگڑا پیدا کرنا۔

"تم کو کچھ وہم بھی ہے.... اس لیے میل کا بیل اور بات کا بتنگڑ بنایا کرتے ہو۔"، [112]

بات ٹھہرانا 

نسبت پکی کرنا، کوئی منصوبہ یا تجویز قائم کرنا، مقرر کرنا۔

"خالد نے زید کے لڑکے کی بات ایک جگہ ٹھہراءی ہے، مگر جب زید بھی پسند کرے۔"، [113]

بات جا پڑنا 

گفتگو کا کسی اور موضوع پر پہنچ جانا، معاملے کا ملتوی ہو جانا۔

"تم کیا کہتے تھے کیا کہنے لگے کہاں سے کہاں بات جا پڑی۔"، [114]

بات جی کو لگنا 

قول وغیرہ کا قابل قبول ہونا، دل پر اثر انداز ہونا(ماخوذ: نوراللغات، 501:1 : مہذب اللغات، 173:2)

بات چٹکیوں میں اڑانا 

کسی بات یا معاملے کو ہنسی میں ٹالنا۔

؎ جان صاحب مجھے تم خیلا ہو سمجھے صاحب چٹکیوں میں جو مری بات اڑا دیتے ہو، [115]

بات چلنے نہ دینا 

فیصلہ یا رائے وغیرہ نہ خود ماننا نہ کسی کو ماننے دینا۔

"مجھے یہ بھی خبر تھی کہ اسلم اس زمانے میں.... ڈاک خانے میں نوکر تھا مگر میری بات کسی نے چلنے نہ دی۔"، [116]

بات چھڑنا 

گفتگو یا کسی امر کا آغاز ہونا، تذکرہ ہونا۔

؎ چھڑ گئیں سینہ و رخسار کی باتیں یارو جگمگانے لگے ہر بام پہ مہتاب نئے، [117]

بات پھیلانا 

مشہور کرنا، بات کو طول دینا۔

"اگر چاہو تو تم اس بات کو زیادہ پھیلا سکتے ہو۔"، [118]

بات تک نہ کرنا 

نہایت بیزار یا ناخوش ہونا۔

"وہ اس سے بات تک نہ کرتی تھی۔"، [119]

بات توڑنا 

قطع کلام کرنا، بات کاٹنا۔

"ہر بات میں دخل دیتی ہے، منہ سے بات توڑے لیتی ہے۔"، [120]

بات تولنا 

کسی بات کے ہر پہلو پر غور کرنا۔

"افضل! پہلے بات کو تولو، پھر بولو۔"، [121]

بات ٹالنا 

سن کے چپ رہنا (تعمیل سے پہلو تہی کرنے یا مسئلے کو ختم کرنے یا جھگڑا رفع دفع کرنے کی غرض سے)۔

؎ سوال وصل پر، ظالم نے کس صفائی سے عدو کے ہجر کا افسوس کر کے ٹالی بات، [122]

بات ٹھنڈی پڑنا 

معاملے کا دب جانا، کسی امر کی شورش فرو ہو جانا۔

"کوئی معمولی بات نہیں قتل کا معاملہ ہے بات ٹھنڈی پڑتے پڑتے بھی بہت دن گزر جائیں گے۔"، [123]

باتوں پر جانا 

کسی کے قول یا فعل کا اعتبار کرنا، افعال کی تقلید کرنا۔

"محمد علی تو ایک بلاّ چھوکرا ہے، تم اس کی باتوں پر کیوں جاءو۔"، [124]

باتوں کی طرف کان لگانا 

متوجہ ہو کر سننا

؎ سازش کے کچھ انداز نگاہوں سے جو پائے جاسوس نے باتوں کی طرف کان لگائے، [125]

باتوں میں دھر لینا 

لاجواب کرنا، قائل کرنا، گفتگو میں غلبہ حاصل کرنا۔

؎ ورد آیتوں کا برسر میداں جو کر لیا ان مہوشوں نے سمر کو باتوں میں دھر لیا، [126]

باتوں میں لگا لینا 

گفتگو میں مشغول کرنا، بہلانا، فریب میں پھانسنا۔

"خواجہ نے باتوں میں لگا کر اس کنیز کو بیہوش کیا۔"، [127]

باتیں بنانا 
حیلہ حوالہ کرنا، خیالی پلاءو پکانا، ڈینگ مارنا۔

"بس زیادہ باتیں نہ بناءو آئیں بڑی نمازی پرہیزگار دنیا بھر کی مکار۔"، [128]

چاپلوسی یا خوشامد کرنا: معذرت کرنا۔

؎ عدو سے کچھ تو بگڑی ہے الٰہی جی اٹھوں کیونکر کھڑے ہو کر وہ میری قبر پر باتیں بناتے ہیں، [129]

باتیں چھڑنا 

(کسی شخص یا امر کا) تذکرہ شروع ہونا، ذکر نکل آنا

"سبھی طرح کی باتیں مجلس میں چھڑتیں"، [130]

[ترمیم] ضرب الامثال

باتیں ہی باتیں ہیں 
مفروضات ہیں، حیلہ حوالہ ہے، ٹالم ٹول ہے۔

؎ کچھ نہیں بادہ و ساقی ہو کہ مطرب ہو کہ لے باتیں ہی باتیں ہیں رنگ چمن و نشۂ مے، [131]

عمل کچھ نہیں لفاظی ہے۔

؎ کیے وعدے وفا کس دن یہ دھوکے ہیں یہ گھاتیں جو تم کہتے ہو وہ کرتے نہیں باتیں ہی باتیں ہیں، [132]

بات تو یہ ہے 

اصلیت یا مختصر یا الحاصل یہ ہے، حقیقت یہ ہے۔

"بات تو یہ ہے کہ زید کو....نسبت سے منظور ہی نہیں۔"، [133]

بات جب ہے 

اس وقت مزہ ہے، تب لطف آئے گا۔

"بات جب ہے کہ دریا کی لہریں اس کے بھنور اور اس کی روانی وغیرہ، تمام حقائق کوزے میں سما جائیں۔، [134]

بات لاکھ کی کرنی خاک کی 

باتیں بہت اور کام خراب، دعویٰ بڑا اور عمل کچھ نہیں۔(ماخوذ: نوراللغات، 509,1)

بات ہے 

قابل داد امر ہے، پسندیدگی کے لائق کام ہے۔

"تم کو کسی سیدھے ڈھرے پر لگائیں تو بات ہے نہیں تو سب کیا کرایا مٹیا میل ہو جائے گا۔"، [135]

بات ہی اور ہے 

معاملہ ہی جداگانہ ہے، مسئلہ ہی دوسرا ہے۔

"میرے نزدیک مقصود بھی لائق ہے آخر اس میں کونسی نالائقی ہے اور بدنام کرنے کی تو بات ہی اور ہے۔"، [136]

بات ہی کیا ہے 

بہت آسان ہے، کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

؎ بات کرنے میں گزرتی ہے ملاقات کی رات بات ہی کیا ہے جو رہ جاءو یہیں رات کی رات، [137]

بات یہ ہے 
اصل مقصد یا مطلب یہ ہے، خلاصہ یہ ہے۔

؎ بے لطف کریں ان کی ملاقات تو یہ ہے منظور نہیں بات کوئی بات تو یہ ہے، [138]

وجہ یہ ہے۔

؎ چارہ گر تیری دوا سے مجھے پرہیز نہیں بات یہ ہے کہ مزا درد جگر دیتا ہے، [139]

باتوں سے کام نہیں چلتا 

صرف کہہ دینے سے بغیر کیے کوئی کام ہو نہیں جاتا، لفاظی کا کوءی نتیجہ نہیں نکلتا عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

؎ بے سعی و طلب کوئی نہیں پھولتا پھلتا، [140]

[ترمیم] فقرات

بات کہی اور پرائی ہوئی 

راز منہ سے نکلتے ہی مشہور ہو جاتا ہے۔

؎ نہ ہو گا ایسا تو ہو گا یہی کہی بات اور پرائی ہوئی، [141]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1932ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، 173 )
  2. ( 1826ء، معروف (فرہنگ آصفیہ، 247:4) )
  3. ( 1927ء، مکاتیب اقبال، 334:2 )
  4. ( 1945ء، الف لیلہ و لیلہ، ابوالحسن منصور، 15:6 )
  5. ( 1938ء، سریلی بانسری، 30 )
  6. ( 1873ء، کلیات منیر، 561:3 )
  7. ( 1932ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، 238 )
  8. ( 1784ء، سحرالبیان، 21 )
  9. ( 1915ء، کلام محروم، 98:1 )
  10. ( 1938ء، سریلی بانسری، 67 )
  11. ( 1908ء، صبح زندگی، 129 )
  12. ( 1907ء، اجتہاد، 110 )
  13. ( 1930ء، حیات صالحہ، 13 )
  14. ( 1929ء، تمغہ شیطانی، 6 )
  15. ( 1949ء، سموم و صبا، 134 )
  16. ( 1854ء، غنچۂ آرزو، 99 )
  17. ( 1918ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، 50 )
  18. ( 1921ء، فغان اشرف، 17 )
  19. ( 1830ء، نظیراکبر آبادی، (مضامین فرحت)24:6 )
  20. ( 1851ء، مومن، کلیات، 299 )
  21. ( 1946ء، فغان آرزو، 235 )
  22. ( 1870ء، الماس درخشاں، 331 )
  23. ( 1874ء، انیس، مراثی، 16:1 )
  24. ( 1892ء، وحید الہ آبادی، انتخاب، وحید، 23 )
  25. ( 1927ء، کرشن بیتی، 93 )
  26. ( 1963ء، ساڑھے تین یار، 108 )
  27. ( 1916ء، نقوش مانی، 27 )
  28. ( 1905ء، یادگار داغ، 168 )
  29. ( 1875ء، دبیر(نوراللغات، 491:1) )
  30. ( 1878ء، گلزار داغ، 38 )
  31. ( 1910ء، گل کدہ، عزیز، 109 )
  32. ( 1917ء، خطوط حسن نظامی، 41:1 )
  33. ( 1905ء، یادگار داغ، 166 )
  34. ( 1924ء، نوراللغات، 491:1 )
  35. ( 1845ء، کلیات ظفر، 491:1 )
  36. ( 1895ء، فرہنگ آصفیہ، 342:1 )
  37. ( 1931ء، محب، مراثی، 22 )
  38. ( 1975ء، حکایت نے، 68 )
  39. ( 1924ء، نوراللغات، 492:1 )
  40. ( 1935ء، آغا حشر، اسیر حرص، 31 )
  41. ( 1898ء، مخزن المحاورات، 77 )
  42. ( 1895ء، فرہنگ آصفیہ، 342:1 )
  43. ( دل، (فرہنگ آصفیہ، 342:1) )
  44. ( 1924ء، انشائے بشیر، 182 )
  45. ( 1875ء، دبیر، دفتر ماتم، 51:3 )
  46. ( 1924ء، نوراللغات، 498:1 )
  47. ( 1961ء، اردو زبان اور اسالیب، 368 )
  48. ( 1954ء، اکبرنامہ، عبدالماجد، 33 )
  49. ( 1903ء، نظم نگاریں، جلال، 191 )
  50. ( 1958ء، مہذب اللغات، 169:2 )
  51. ( 1958ء، مہذب اللغات، 169:2 )
  52. ( 1958ء، مہذب اللغات )
  53. ( 1924ء، نوراللغات، 498:1 )
  54. ( 1909ء، نغمہ عنادل، عاشق، 31 )
  55. ( 1958ء، مہذب اللغات، 170:2 )
  56. ( 1953ء، حکمائے اسلام، 63:1 )
  57. ( 1933ء، سیف و سبو، جوش، 37 )
  58. ( 1905ء، یادگار داغ، 149 )
  59. ( 1905ء، یادگار داغ، 145 )
  60. ( 1933ء، کلیات حسرت، 163 )
  61. ( 1948ء، مہذب اللغات، 169:2 )
  62. ( 1943ء، غبار خاطر، 90 )
  63. ( 1924ء، نوراللغات، 496:1 )
  64. ( 1846ء، دیوان مہر، 351 )
  65. ( 1924ء، نوراللغات، 496:1 )
  66. ( 1867ء، رشک (نوراللغات، 497:1) )
  67. ( 1905ء، یادگار داغ، 173 )
  68. ( 1916ء، اتالیق بی بی، 20 )
  69. ( 1940ء، ہم اور وہ، 20 )
  70. ( 1938ء، سریلی بانسری، 59 )
  71. ( 1915ء، جان سخن، 209 )
  72. ( 1907ء، دفتر خیال، تسلیم، 91 )
  73. ( 1925ء، اعجاز نوح، 9 )
  74. ( 1927ء، آیات وجدانی، 204 )
  75. ( 1910ء، کلیات شائق، 303 )
  76. ( 1803ء، گل بکاولی، 21 )
  77. ( 1934ء، شعلہ طور، 190 )
  78. ( 1914ء، کلیات حسرت، 91 )
  79. ( 1910ء، سپاہی سے صوبہ دار (ترجمہ)89 )
  80. ( 1929ء، ناٹک کتھا، 26 )
  81. ( 1910ء، راحت زمانی، 22 )
  82. ( 1905ء، یادگار داغ، 6 )
  83. ( 1830ء، نظیر، کلیات، 55 )
  84. ( 1952ء، کمارسمبھو، 142 )
  85. ( 1931ء، محمد علی، ڈائری، 5:2 )
  86. ( 1945ء، سنبل و سلاسل، جوش، 31 )
  87. ( 1902ء، آفتاب شجاعت، 1، 334:5 )
  88. ( 1924ء، نوراللغات، 493:1 )
  89. ( 1824ء، فسانہ عجائب، 7 )
  90. ( 1958ء، مہذب اللغات، 162:2 )
  91. ( 1905ء، رسوم دہلی، سید احمد، 51 )
  92. ( 1905ء، یادگار داغ، 149 )
  93. ( 1936ء، شعاع مہر، 103 )
  94. ( 1958ء، مہذب اللغات، 163:2 )
  95. ( 1924ء، نوراللغات، 494:1 )
  96. ( 1882ء، طلسم ہوشربا، 197:1 )
  97. ( 1891ء، ایامٰی، 20 )
  98. ( 1888ء، صنم خانہ شق، 225 )
  99. ( 1936ء، شعاع مہر، 31 )
  100. ( 1924ء، نوراللغات، 493:1 )
  101. ( 1896ء، فلورا فلورنڈا، 282 )
  102. ( 1824ء، مصحفی، انتخاب رامپور، 72 )
  103. ( 1954ء، شاید کہ بہار آئی، 13 )
  104. ( 1888ء، صنم خانۂ عشق، 276 )
  105. ( 1945ء، سنبل و سلاسل، 73 )
  106. ( 1915ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، 80 )
  107. ( 1935ء، اودھ پنچ، لکھنءو، 9:39،20 )
  108. ( 1914ء، گلکدہ، عزیز لکھنوی، 129 )
  109. ( 1921ء، خونی شہزادہ، 85 )
  110. ( 1905ء، یادگار داغ، 149 )
  111. ( 1917ء، غزلیات شبیر، (شبیر خان)87 )
  112. ( 1936ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، 47 )
  113. ( 1924ء، نوراللغات، 500:1 )
  114. ( 1924ء، نوراللغات، 500:1 )
  115. ( 1879ء، جان صاحب، د، 172:1 )
  116. ( 1939ء، شمع، اے آر خاتون، 458 )
  117. ( 1962ء، ہفت کشور، جعفر طاہر، 65 )
  118. ( 1932ء، رسالہ نبض، کبیرالدین، 26 )
  119. ( 1945ء، الف لیلہ و لیلہ، 114:6 )
  120. ( 1901ء، راقم، عقد ثریا، 32 )
  121. ( 1908ء، سلور کنگ، آغا حشر، 28 )
  122. ( 1936ء، شعاع مہر، 31 )
  123. ( 1958ء، )
  124. ( 1924ء، نوراللغات، 514:1 )
  125. ( 1921ء، مرثیۂ فہیم، (باقر علی خاں) 10 )
  126. ( 1911ء، برجیس، مرثیہ، 17 )
  127. ( 1900ء، طلسم خیال سکندری، 30 )
  128. ( 1919ء، جوہر قدامت، 27 )
  129. ( 1901ء، عاقل، دیوان، 59 )
  130. ( 1954ء، اکبر نامہ، عبدالماجد، 260 )
  131. ( 1932ء، نقوش مانی، 96۔ )
  132. ( 1905ء، یادگار داغ، 162۔ )
  133. ( 1924ء، نوراللغات، 499:1 )
  134. ( 1944ء، افسانچے، 10 )
  135. ( 1903ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلہن، 58 )
  136. ( 1892ء، دلچسپ، 150:2 )
  137. ( 1874ء، بیخود، فرہنگ آصفیہ، 345:1 )
  138. ( 1905ء، داغ (نوراللغات، 514:1 )
  139. ( 1915ء، جان سخن، 125 )
  140. ( 1942ء، تلقین عمل، فہیم (سکندر حسین)،18 )
  141. ( 1940ء، احسن مارہروی، تحفۂ احسن، 13 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter