باریک

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔

بارِیک {با + رِیک} (فارسی)

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو سے فارسی میں ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے اردو میں 1611ء میں "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی

فہرست

[ترمیم] معانی

1. چوڑائی موٹائی میں کم، پتلا، مہین۔

"لفظ باریک پر آپ کا ارشاد تھا کہ صحیح نہیں باریک بمعنی کم در عرض و عمق بھی آیا ہے۔" [1]

2. پتلے سوت کا، مہین سوت کا۔

"دوپٹہ کریب یا آب رواں کا باریک، چھاتی سے ڈھلکا۔"، [2]

3. سفوف کی طرح پسا ہوا، میدے کی طرح کا، بہت ہی چھوٹے چھوٹے ذروں پر مشتمل۔

"ہل چلا کر کھیت باریک تیار کریں اور ----- مطلوبہ بیج مناسب گہرائی میں بو دیں۔"، [3]

4. نہایت نازک، لطیف، نفیس۔

"رات بھیگتی تھی اور ہوا باریک اور ٹھنڈی چلتی تھی۔" [4]

دقیق، مشکل، پیچیدہ (جس میں غور و خوض اور احتیاط درکار ہو)۔

"باریک سے باریک اور مشکل سے مشکل مسئلے حل کر کے ذہن میں اتار دیتے تھے۔" [5]

5. نہایت خفیف، جو بغیر غور و تعمق کے محسوس نہ ہو۔

؎ ادا و ناز و تغافل میں فرق ہے باریک

کہاں سے لائیں وہ آنکھیں جو امتیاز کریں، [6]

[ترمیم] مترادفات

پَتْلا، نازُک، دَقِیق، لَطِیف، ٹِشُو،

[ترمیم] مرکبات

بارِیک بات، بارِیک بِینی، بارِیک بِیں، بارِیک جان، بارِیک فَہْم، بارِیک مِیان، بارِیک آواز، بارِیک خِیال، بارِیک راسْتَہ، بارِیک رَقَم، بارِیک کام، بارِیک نَظَر

[ترمیم] روزمرہ جات

باریکی چھیننا 

لطافت اور نزاکت پیدا ہونا، نئی سے نئی وضع اور انداز ایجاد ہونا۔

"زر دوزی ایسی بنی ایسی باریکی چھنی کہ باہر بندو اس کے پنے جو پائیں بجاے جیغہ و سر پیچ سر پر لگائیں"، [7]

باریکی نکالنا 

نکتہ چینی کرنا، لطیف مضمون پیدا کرنا۔ (نوراللغات، 531:1)

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1918ء، مکاتیب اقبال، 92:1 )
  2. ( 1890ء، فسانۂ دلفریب، 15 )
  3. ( 1973ء، رسالہ زراعت نامہ یکم مارچ، 3 )
  4. ( 1882ء، طلسم ہوشربا، 634:1 )
  5. ( 1922ء، مرگ نامہ، 36 )
  6. ( 1927ء، شاد، بادۂ عرفاں، 127 )
  7. ( 1824ء، فسانۂ عجائب، 10 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter