بار 2

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔

بار {بار} (فارسی)

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اصلی معنی اور اصلی حالت میں ہی بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1500ء میں "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر)

فہرست

[ترمیم] معانی

1. گرانی، وزن، بوجھ، بھار۔

"اس کے خون کی قیمت سو بار شتر چھوہارا تھی۔" [1]

بوجھل پن، دباؤ (جو طبیعت وغیرہ پر بار ہو)۔

؎ غرض ہو جو زہرہ پہ غصے کا دار

نہ سنبھلے نزاکت سے سختی کا بار [2]

ذمہ داری، کفالت۔

"آپ صلہ رحم کرتے ہیں، مقروضوں کا بار اٹھاتے ہیں۔" [3]

قرض۔

"اس جائیداد پر بہت بار ہے۔" [4]

2. مرتبہ، دفعہ، نوبت۔

"دنیا میں کروڑوں آدمی ہیں جو ایک ہی بار کھاتے ہیں۔"، [5]

3. پھل، ثمر۔

؎ جس کو لطف قرب رب دو جہانی مل گیا

اس کو گویا بار نخل زندگانی مل گیا، [6]

4. اسباب، سامان (لادا جانے والا)۔

"ان اونٹوں کا بار رستے میں پھینک دیا۔" [7]

گٹھڑی، بنڈل، گانٹھ، راس، کھیپ۔

"کوئلے اور دھات اسی طرح مسلسل ڈالتے جاتے ہیں، ہر بار 30 من ڈھلی ہوئی کجدھات کا ہوتا ہے۔" [8]

5. ناگواری، اندوہ، کلفت۔

"بارشدائد سفر اپنے اوپر زیادہ کرنا عقل و دانش سے دور ہے۔"، [9]

6. { بطور مذکر، مؤنث } دخل، رسائی، اجازت داخلہ، پیشی یا حاضری کا موقع۔

"ان لوگوں کو دربار نبوی کا نمونہ پیش نظر رکھنا چاہیے جہاں کافروں اور منافقوں تک کو بار ملتا تھا۔"، [10]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

load, burden; cargo; weight, heaviness; onus; pregnancy; fruit, produce

صفت ذاتی [11]

جمع: بارْہا {بار + ہا}

[ترمیم] معانی

1. لدا ہوا۔

"زربفت کے بوروں میں کچھڑی بھری ہوئی، ہزاروں ہاتھیوں پر بار۔"، [12]

2. ناگوار، تکلیف دہ۔

؎ اے چرخ کمال بار ہوں گا تجھ کو

آہوں سے سزائے سخت دو گا تجھ کو [13]

مشکل، دشوار۔

؎ یومینا تو گوّال کی نار ہے

اسے بھوند لیانا تو کیا بار ہے [14]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

heavy, burdensome, hard to be borne

[ترمیم] مترادفات

وَزْن، بوجھ، گَرانی،

[ترمیم] مرکبات

بارِ عام، بارِ سَر، بارْدان، بار آوَری، بارْ بَرْداری، بارْ پَیما، بارِ ثُبُوت، بارِ خاطِر، بار دار، بارِ دِگَر، بارِ دوش، باردانَہ، بارْکَش، بارگاہ، بارگَہ، بارْوَر، بارہا، باریاب، باریابی، بارِعام، بارْگاہ، بارِ تَرْدِید، بارْبَٹائی، بارِخاص، بارْگِیر، بارْہا، بارْیاب، بارْیار، بارْیاری

[ترمیم] روزمرہ جات

بار دھرنا 

ذمہ داری ڈالنا، ذمہ دار ٹھہرانا۔

؎ جس بات کو مفید سمجھتے ہو تم کرو اوروں پہ اس کا بار نہ اصرار سے دھرو، [15]

بار رکھنا 


"میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں کہ.... انقلاب ثریا کا تمام بار سیاح پر رکھ دوں۔"، [16]

دخل رکھنا، دخیل ہونا۔

؎ کیوں نہ مقبول ہوں اللہ کی سرکار میں ہم بار رکھتے ہیں شہہ پاک کے دربار میں ہم، [17]

بار سنبھالنا 

ذمہ داری اپنے سر لینا، سرپرستی کرنا۔

؎ نے دوست نہ شفیق نہ ہمدم نہ غمگسار فکر فکر اپنی اپنی کون سنبھالے کسی کا بار، [18]

بار کرانا 

بار کرنا سے تعدیہ ہے

؎ اسباب سفر راحلوں پر بار کراءو پھر سب حرم پاک کو ناقوں پر بٹھاءو، [19]

بار کھولنا 

پڑاءو پر اترنا، لادو سواری سے سامان اتارنا، تجارتی سامان گٹھڑی صندوق وغیرہ سے نکالنا

؎ اس کارواں سرا میں کیا میر بار کھولیں یاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا، [20]

بار بٹانا 

بوجھ یا تکلیف بانٹ لینا، ذمہ داری میں شریک ہونا۔

؎ پیچ و تاب غم گیسو میں تن و جاں ہیں شریک یار بار الم یار بٹا لیتے ہیں، [21]

بار پانا 
(پیشی یا حاضری کا) موقع پانا، داخل ہونا۔

"خداوند نعمت.... جو لوگ خوش قسمتی سے بار پاتے ہیں ان میں بعض بعض.... بدخواہی کر جاتے ہیں۔"، [22]

دخیل ہونا، رسوخ حاصل کرنا۔

"صحبت بد نے رنگ اثر جمایا، خوشامد خوروں نے مزاج میں بار پایا۔"، [23]

بار دینا 
پناہ دینا

"میری یہی عرض ہے کہ دارو گیر قیامت میں مجھ کو بار دے۔"، [24]

دخل جگہ یا اجازت دینا۔

"چغل خوروں کو اپنی خلوت میں بار نہ دو۔"، [25]

پھل لانا، باآور ہونا۔

؎ امید کے نخل نے دیا بار خورشید حمل ہوا نمودار، [26]

بار اترنا 

فرض ادا ہونا، ذمہ داری پوری ہونا۔

؎ اترا جو بار اور گراں بار ہو گئے آزاد یوں ہوئے کہ گرفتار ہو گئے، [27]

بار اٹھانا 
بوجھ کا متحمل ہونا، ذمہ داری کا اپنے سر عائد کرنا۔

"اپنے بچے کے لیے دایہ رکھنے کا بار نہ اٹھا سکتے تھے۔"، [28]

ذمہ داری سے سبکدوش کرنا۔

"میں نے حق تعالیٰ سے درخواست کی کہ عورتوں کا بار مجھ سے اٹھا لیوے۔"، [29]

بار اٹھنا 

بار اٹھانا کا فعل لازم ہے۔

؎ ایک جان ناتواں سے کیوں کر اٹھتا بار غم موت کا پیغام تھا کم بخت یہ آزاد غم، [30]

بار آنا 
بار آور ہونا، پھل لگنا۔

؎ اللہ تعالیٰ اک دانہ میں یہ تفصیل مضمر تھی کھلے گل، کونپلیں پھوٹیں، شگوفے نکلے بار آیا، [31]

نوبت آنا، موقع ملنا (اثبات و نفی دونوں طرح)۔

؎ اے ساقی فیاض، کرم اپنا دکھا اور گل کھلنے کی بار آئی ہے اک بار پھلا اور، [32]

بار کھینچنا 

بوجھ کو برداشت کرنا، ذمہ داری اٹھانا یا لینا۔

؎ گردن میں طوق پاءوں میں دہری ہیں بیڑیاں یہ بار کھینچتے ہیں کہیںایسے ناتواں، [33]

بار گزرنا 

ناگوار ہونا، گورارا نہ ہونا۔

"اس قدر ان کی قدرومنزلت جو ہوتی تھی اس کا ان پر بار گزرتا تھا۔"، [34]

بار لانا 

پھل دینا، پھلنا پھولنا۔

؎ بار لایا نہ کبھی نخل محبت اے چرخ کیا نہیں ہے یہ شجر پھولنے پھلنے کے لیے، [35]

بار ملنا 

داخلے کا موقع ہاتھ آنا، رسائی ہونا۔

"سینکڑوں ہزاروں ہندی لفظ.... جنہیں ادب میں بار نہیں ملا تھا اس خوبی سے.... استعمال کیے ہیں کہ خاصے متین اور زیادہ سنجیدہ معلوم ہوتھے ہیں۔"، [36]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1912ء، سیرۃ النبی، 386:2 )
  2. ( 1910ء، قاسم اور زہرہ، 21 )
  3. ( 1912ء، سیرۃ النبی، 306:2 )
  4. ( 1924ء، نوراللغات، 525:1 )
  5. ( 1916ء، بازار حسن، 71 )
  6. ( 1911ء، نذر خدا، 31 )
  7. ( 1937ء، واقعات اظفری، 71 )
  8. ( 1948ء، اشیائے تعمیر، 233 )
  9. ( 1834ء، بستان حکمت، 306 )
  10. ( 1914ء، شبلی، مقالات، 143:3 )
  11. ( مذکر - واحد )
  12. ( 1890ء، فسانہ دلفریب، 31 )
  13. ( 1917ء، رشید (پیارے صاحب)رباعیات، 68 )
  14. ( 1635ء، میناستونتی (قدیم اردو، 130:1) )
  15. ( 1921ء، اکبر الہ آبادی، گاندھی نامہ، 8 )
  16. ( 1912ء، شہید مغرب، 81 )
  17. ( 1939ء، سلام واقف، یعقوب حسین واقف، 3 )
  18. ( 1875ء، مونس، مراثی، 202:1 )
  19. ( 1972ء، بدر الہ آبادی، مرثیہ، 7 )
  20. ( 1810ء، میر، کلیات، 147 )
  21. ( 1867ء، رشک، دیوان، 157 )
  22. ( 1901ء، الف لیلہ، سرشار، 54 )
  23. ( 1887ء، جام سرشار، 17 )
  24. ( 1803ء، گل بکاءولی، نہال چند،3 )
  25. ( 1939ء، مطالعۂ حافظ، 128 )
  26. ( 1838ء، گلزار نسیم، 15 )
  27. ( 1947ء، سرود و خروش، 22 )
  28. ( 1933ء، میرے بہترین افسانے، 44 )
  29. ( 1924ء، تذکرتہ الاولیا، 355 )
  30. ( 1932ء، مانی، نقوش مانی، 13 )
  31. ( 1932ء، صوت تغزل، 3 )
  32. ( 1912ء، شمیم، ریاض شمیم، 37:2 )
  33. ( 1965ء، اطہر گلدستۂ اطہر، 51:2 )
  34. ( 1874ء، تہذیب الاخلاق، 529:2 )
  35. ( 1900ء، دیوان حبیب، 278 )
  36. ( 1933ء، خطبات عبدالحق، 8 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter