بازی

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔

بازی {با + زی} (فارسی)

باختن، بازی

فارسی زبان میں مصدر باختن سے مشتق صیغۂ امر باز کے ساتھ ی بطور لاحقہ لگنے سے حاصل مصدر بازی بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے سہ ماہی اردو کے حوالے سے "بابا فرید" کے ہاں 1265ء میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مؤنث - واحد)

جمع: بازِیاں {با + زِیاں}

جمع غیر ندائی: بازِیوں {با + زِیوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. کھیل، تماشا، کرتب۔

؎ لہو و بازی میں ساتھ رہتا تھا

ہر گھڑی نرم و گرم سہتا تھا، [1]

2. تاش گنجفے شطرنج وغیرہ کا کھیل۔

"نہ صرف یہ کہ شطرنج کے ماہر تھے بلکہ فرش پر بیٹھ کر کھیلے جانے والی تمام بازیوں میں دور دور اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔" [2]

گنجفے وغیرہ کے کھیل کا پورا داؤ۔

"تیمور اپنے بیٹے کے ساتھ چوسر کھیل رہا تھا، ----- حکم دیا کہ قیدی منتظر رہے، ہم اپنی بازی ختم کر لیں۔" [3]

{ استعارۃ } وہ چال جو کھیل وغیرہ میں چلی جائے، دات۔

؎ اب صفائی رات بھر منت سے ان سے کیجیے

بازیاں سب مٹ چکی ہیں دانو ڈالا چاہیے [4]

3. تاش یا گنجفے کے پتے یا شطرنج وغیرہ کی گوٹیں جو بانٹ میں کسی کھلاڑی کو ملیں، بانٹ کے بعد ہمرنگ پتے۔

"سفید بازی چونکہ خانصاحب لیتے تھے لہٰذا پیدل کی جگہ اپنی انگوٹھی رکھ دیتے۔"، [5]

4. شرط، مقابلہ، (اکثر ہار جیت کے ساتھ)۔

"آنحضرت کی سواری کا ایک گھوڑا تھا ----- ایک دفعہ اس کو آپ نے بازی میں دوڑایا، اس نے بازی جیتی تو آپ کو خاص مسرت ہوئی۔"، [6]

5. وہ چیز جو کوئی شخص شرط میں ہار جائے، زرشرط۔

(نوراللغات، 536:1؛ پلیٹس)

6. چال، فریب۔

؎ قامت فتنہ خیز کو خواہش حشر کس لیے

بازی نو کی فکر میں [[نرگس نیم باز]] کیوں، [7]

7. کبوتر کا پلٹیاں کھانا، کبوتر کے پلٹیاں کھانے یا کلا کرنے کا عمل، کبوتر کا گرہ کرنا (بیشتر کابلی کبوتر کے لیے مستعمل)۔ (ماخوذ نوراللغات، 536:1)

8. غلبہ، جیت۔ (فرہنگ آصفیہ، 352:1)

9. وہ جدوجہد جس میں یہ یقین نہ ہو کہ نفع ہو گا یا نقصان، امید و بیم کی حالت کا کام۔

؎ مری بازی کا منصوبہ گیا کب کا پلٹ یارو

خبر تم کو بھی ہے کچھ اے مری چالوں سے بیگانو، [8]

10. { تصوف } توجہ خالص اور جذبہ حقانی، جس کے سبب سے سالک کا دل متغیر نہیں ہوتا اور طلب حق میں استوار اور سرگرم رہتا ہے۔

(مصباح التعرف لارباب التصوف، 54)

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

play, sport, game, trick; game of chance, hazard; gaming; stake (at play), wager, bet

[ترمیم] مترادفات

کھیل، تَماشا، کَرْتَب،

[ترمیم] مرکبات

بازیِ شَمْشِیر، بازی کا پھُول، بازی کوش، بازی گَرَن، بازیءِطِفْلانَہ، بازِیءِ طِفْلاں، بازِیءِ قائِم، بازی گاہ، بازی گَر، بازی گَری

[ترمیم] روزمرہ جات

بازی ہرنا 

کھیل کا بگڑ جانا، کھیل ہارنا۔

"بازی کا ہر جانا بالکل یقینی ہے"، [9]

بازی لگنا 

بازی لگانا کا فعل لازم ہے۔

"میری موجودگی میں بازی نہ لگنے پائی"، [10]

بازی لے جانا 

سبقت لے جانا، حریف سے بڑھ جانا، مقابل کو شکست دینا۔

"وہ تمام لوگوں سے بازی لے گیا"، [11]

بازی مات ہونا 

ہار جانا، شکست ہونا، ناکامی ہونا؛ تدبیر کارگر نہ ہونا۔

؎ یہ چال بھی جب سیدھی نہ پڑی رانا کی بازی مات ہوئی، [12]

بازی مارنا 

کامیاب ہو جانا، جیت جانا۔

"ولیم: پیانو بھی سیکھ لیا ہے! مسز گارڈن: سچ! تب تم نے بازی مار لی، جنی گانے میں ماہر ہے"، [13]

بازی ہاتھ (آنا / رہنا) 

کامیابی ہونا، حسب مراد کام ہونا۔

"دوپرانے چتھڑے گئے تو گئے بارے بازی تو تو اب صاحب کے ہاتھ رہی"، [14]

بازی ہارنا 

(کسی کا) شکست کھانا، مغلوب ہو جانا۔

؎ وہ زیب گلو یہ زینت سر یوں بھی یہ ہے اس سے برتر کیا ہار سے بازی ہارا ہے سورج کا سہرا پھولوں کا، [15]

بازی کھیلنا 
گنجفے یا شطرنج وغیرہ کے کھیل میں مشغول ہونا۔ (ماخوذ: نوراللغات، 537:1)
کوئی چیز داءو پر لگانا۔

؎ جو کھیلی عشق کی بازی تو ہارے تخت و تاج نہ تام گنجفہ لے میں ترا غلام ہوا، [16]

کسی کھیل کا پورا داءو ختم کرنا۔

؎ ہزاروں بازیاں دھوکے میں اس دم باز سے کھیلیں جو ہیں جانباز باز آتے نہیں وہ عشق بازی سے، [17]

چال چلنا، فریب دینا، تدبیر لڑانا۔

"اٹلی اور اسٹریا میں دونوں اپنی اپنی بازی کھیلنا چاہتے تھے"، [18]

بازی لڑنا 

برابر (یا تقریباً برابر) کا کھیل ہونا۔

"بازی لڑی ہوئی ہے یوں ہی انیس بیس کا کھیل ہے"، [19]

بازی لگانا 

ہار جیت پر کچھ رقم وغیرہ طے کرنا، شرط لگانا۔

"مثل ہے کہ ایک خرگوش اور ایک کھچوا باہم بازی لگا کر چلے"، [20]

بازی دینا 

کھیل خصوصاً شطرنج میں ہار کی صورت نظر آنا، ناکامی کے آثار پیدا ہونا۔

"پہلے تو خوب چیف منسٹر کے مخالف شیخوں کے ہاں [[دوڑ دوڑ کر]] جاتے تھے اور اب بازی دبتی دیکھی تو لگے بغلیں جھانکنے"، [21]

بازی کرنا 
دھوکا دینا۔

"جانوروں کی پرستش کرنے والوں سے شیطان نے بازی کی"، [22]

کھیلنا، دل بہلانا، چھیڑ چھاڑ کرنا، مقابلہ کرنا۔

"ان کو بیچ کر اس کے واسطے جوز.... خریدوں تاکہ ان سے بازی کرے"، [23]

بازی کھاتا 
مات کھاتا، ہار جانا۔

؎ ہیں جو دلالی پیشگان شریر بازی کھاتا ہے ان سے چرخ اثیر، [24]

فریب میں آنا۔

؎ گر کہیے نہ غیر کے دموں میں آءو دیکھو باز آءو تم نہ بازی کھاءو، [25]

بازی کھلنا 

کھیل میں پتوں اور مہروں کا سامنے آنا، مہرہ چلنے کے لیے خانے کا خالی ہونا؛ حقیقت یا اصلیت کا سمجھ میں آنا۔

؎ شاطر کا چلے مکر نہ یاں حیلہ طرازی تقدیر جو سیدھی ہو تو کھل جاتی ہے بازی، [26]

بازی پھرنا 

جیتے ہوئے کا ہارنا یا ہارے ہوئے کا جیتنا۔

؎ ہمدم نہیں وہ تیرا کہ اس سے نہ دم سازی دل ہار چکا اب تو کسی طور پھرے بازی، [27]

بازی جیتنا 

کھیل میں بامراد ہونا؛ شرط جیتنا، مقابلے میں غالب ہونا۔

؎ جب قول وفا ہار چکا میں تو پھر اب کیا جیتے ہوئے ہیں آپ تو بازی مرے دل کی، [28]

بازی چڑھنا 

کامیابی حاصل ہونا، غلبہ پانا، غالب آنا۔

؎ کھیل سمجھے وہ اسے بھی جان پر کھیلے جو ہم ہو گئی کمزور بازی چڑھ کے یہ کیا ہار ہے، [29]

بازی اڑنا 

کھیل میں طوالت ہونا؛ ہوتے ہوتے معاملے میں رکاوٹ پیدا ہونا۔

"بازی پر تو کسی کا بس نہیں چلتا، اڑی تو اڑی"، [30]

بازی ابتر ہونا 
گنجفے اور تاش کے ایک کھیل کی پہلی بازی میں میر یا تصویر کا نہ ہونا۔

؎ جب نہ ہو شاہ تو ویراں نہ ہو اکبر کیوں ملک گنجفے میں بھی ہے بے شاہ کی بازی ابتر، [31]

معاملہ بگڑ جانا۔

؎ موسٰی جو کہیں سے آئے پھر کر دیکھا تو یہاں ہے بازی ابتر، [32]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1911ء،کلیات اسماعیل، 73 )
  2. ( 1962ء، سہ روزہ مراد خیرپور، 7 جنوری، 4 )
  3. ( 1928ء، حیرت، مضامین، 46 )
  4. ( 1861ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، 899 )
  5. ( 1932ء، روح ظرافت، 114 )
  6. ( 1914ء، سیرۃ النبی، 208:2 )
  7. ( 1927ء، شاد، میخانۂ الہام، 190 )
  8. ( 1908ء، مقالات حالی، 85:2 )
  9. ( 1932ء، احیائے ملت، 14۔ )
  10. ( 1944ء، سوانح عمری و سفرنامہ (حیدر)243۔ )
  11. ( 1945ء، الف لیلہ و لیلہ، 434:6۔ )
  12. ( 1929ء، مطلع انوار، 91۔ )
  13. ( 1933ء، روحانی شادی، 15۔ )
  14. ( 1891ء، ایامٰی، 58۔ )
  15. ( 1936ء، شعاع مہر، 186۔ )
  16. ( 1861ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، 40۔ )
  17. ( 1861ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، 809۔ )
  18. ( 1925ء، تاریخ یورپ جدید، 584۔ )
  19. ( 1975ء، سہ ماہی، اردونامہ (بشیر علی کاظمی)235:50۔ )
  20. ( 1859ء، رسالۂ تعلیم النفس، 30:1 )
  21. ( 1952ء، سہ روزہ مراد، خیرپور، 7جون، 2۔ )
  22. ( 1866ء، تہذیب الایمان، (ترجمہ)591۔ )
  23. ( 1924ء، تذکرۃ الاولیا، (ترجمہ)331۔ )
  24. ( 1810ء، بحرالمجت، 58۔ )
  25. ( 1809ء، جرات، کلیات، 245۔ )
  26. ( 1912ء، شمیم، مرثیہ،4۔ )
  27. ( 1785ء، حسرت، جعفری علی، کلیات، 312۔ )
  28. ( 1921ء، اکبر، کلیات، 93:1۔ )
  29. ( 1905ء، یادگار داغ، 175۔ )
  30. ( 1899ء، دریائے صادقہ،7۔ )
  31. ( 1896ء، تجلیات عشق، اکبر، 471۔ )
  32. ( 1960ء، آتش خنداں، 285۔ )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter