خیال

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android


[b]اردو لغت[/b]

خَیال {خَیال} (عربی)

خ ی ل، خَیال

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق مصدر ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ 1503ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مذکر - واحد )

جمع: خَیالات {خَیا + لات}

جمع غیر ندائی: خَیالوں {خَیا + لوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. کسی شے کو معرض تخیل یا ذہن میں لانے اور اس کی صورت یا کیفیت کو اس میں قائم کرنے کا عمل، تصور۔ ؎ بھٹکاتے ہیں ہماری نظر کو خیال کو

تاہم نہ دیکھ پائیں عمل کے مآل کو، [1]

2. وہ بات یا نکتہ جو ذہن میں آئے، سوچ۔

"بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ .... کوئی نیا خیال ذہن میں جگمگا جاتا ہے۔"، [2]

3.وہم، گمان۔

"خیال، وہم غیظ غضب مادہ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے۔" [3]

دماغ کی وہ قوت جو محسوسات کے غائب ہونے کے بعد ان کی صورتیں محفوظ رکھتی ہے، حس مشترک کا خزینہ۔

"مدرکات و معلومات .... حس میں پہنچتے ہیں اور حس سے خیال میں آتے ہیں۔" [4]

4. رائے، نظریہ، مقصود، تجویز۔

"سٹیکل کے خیال میں نیوراتیت عالمگیر رجحانات میں سے ہے۔"، [5]

5. لحاظ، پاس۔

؎ اُسے خیال تمھارا نہ ہو تو ممکن ہے

یہ جھوٹ ہے کہ تمھیں غیر کا خیال نہیں [6]

فکر، پروا۔

"اس کا اور اس کے بچے کا کوئی خیال نہیں کرتا۔" [7]

6. توجہ، دیھان۔

"آپ نے خیال نہیں کیا میں نے عرض کیا تھا وہ سبق کا وقت تھا۔"، [8]

7. راگ، راگنی کی بندش جس کے اجزائے ترکیبی استھائی، سنچائی اور انترا ہوتے ہیں، راگ کی یہ گائیکی چونکہ کسی جذبے، کسی احساس یا کسی موسم کی کیفیت کا ایک خیال انگیز نغماتی مرقع ہوتی ہے غالباً اسی لیے اسے خیال کا نام دیا گیا ہے۔

"ان بارہ راگوں کے علاوہ قول، ترانہ، خیال .... بھی شامل کئے گئے ہیں۔"، [9]

8. ہندی، اردو شاعری کی ایک صنف۔

"چشتیہ قادریہ سلسلہ کے صوفیائے کرام نے قدیم اردو یا ابتدائی اردو میں .... بہت سے خیال اور دوہے بھی تصنیف کیے۔"، [10]

9. خواہش، ارادہ، منصوبہ۔

؎ دم بھر میں تیری ایک نہیں نے مٹا دیے

کیا کیا خیال تھے دلِ امیدوار میں، [11]

10. یاد۔

؎ دلاؤں قولِ وفا یاد انہیں تو کہتے ہیں

یہ قول میں نے دیا تھا مجھے خیال نہیں، [12]

11. { تصوف } خیال سے مراد خیال حق ہے یعنی جو خواب یا بیداری میں تصور کرے یا دیکھے۔

(مصباح التعرف، 115)

12. { لکھنو } ادنٰی طبقے کا ایک ادبی فن جس میں لوگ فی البدیہہ اشعار کہہ کر دائرے پر گاتے تھے۔

"ایک فن خیال کا پیدا ہو گیا لوگ فی الدبیہہ اشعار تصنیف کر کے دائرے پر گاتے۔"، [13]

13. تصویر۔

؎ یہ قدرت کا دیکھا جو اس نے خیال

کہا شاہزادے نے یا ذوالجلال، [14]

14. بچوں کا ایک کھیل جس میں مٹی یا ریت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کسی حصے میں کوئی چیز (پھرکی وغیرہ) دبا دیتے اور پوچھتے کہ وہ چیز کس حصے میں ہے۔ جواب پر ہار جیت کا مدار ہوتا۔

"بچوں کے ایک خاص کھیل کا نام اشعار میں آیا ہے جس کو خیال کہتے تھے۔"، [15]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

Thought, opinion, surmise, suspicion, conception, idea, notion, fancy, imaginatin, conceit, whim, chimera; consideraiton; regard, deference; apprehension care, concern; an imaginary form , apparition , vision , spectre , phantom, shadow, delusion; a kind of song.

[ترمیم] مترادفات

تَصَوُّر، تَفَکُّر، فِکْر، دھَیان، تَخَیُّل، وَہْم، اِرادَہ، نِیَّت، عِنْدِیَّہ، قِیاس، لَگَن، مُطالَعَہ، خواب، دھُن، اِحْساس، رِعایَت، ظَن، سَودا، اَنْدیشَہ، سوچ، گُمان،

[ترمیم] مرکبات

خَیال آفْرِینی، خَیال اَفْروز، خَیال اَنْگیزی، خَیال آباد، خَیال آرائی، خَیال بَنْد، خَیال بَنْدی، خَیال بِیں، خَیال پَرَسْت، خَیال پَیمائی، خَیال خَانَہ، خَیال سے باہَر، خَیالِ مُحال، خَیال و خواب

[ترمیم] روزمرہ جات

خیال باندھنا 
منصوبہ بنانا، ارادہ کرنا۔

"وہ غرور کی شراب میں بدمست تھا اور خدا جانے کیا کیا خیال باندھ رہا تھا"، [16]

تصور کرنا، سوچنا۔

"پلنگ پر لیٹ کر محبوب بیگم کا خیال باندھا"، [17]

خواہش کرنا، آرزو کرنا۔

"کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے"، [18]

مضمون آفرینی کرنا، اپنے ذہن سے مضمون ایجاد کرنا۔

؎ دیکھی کبھی کمر نہ دین سے سنا جواب شاعر خیال باندھتے ہیں اس کا کیا جواب، [19]

ذہن میں طرح طرح کے گمان لانا، وہم کرنا۔

"غالب کی بڑی انا نے اپنے بارے میں خیال بھی بڑے بڑے باندھے۔، [20]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1983ء، قہر عشق، 305 )
  2. ( 1983ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، 69 )
  3. ( 1906ء، الکلام، 128:2 )
  4. ( 1940ء، اسفار اربعہ، 550 )
  5. ( 1983ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، 35 )
  6. ( 1928ء، دیوان قمر، 42:2 )
  7. ( 1977ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، 114 )
  8. ( 1908ء، صبح زندگی، 63 )
  9. ( 1986ء، اردو گیت، 501 )
  10. ( 1986ء، اردو گیت، 55 )
  11. ( 1886ء، دیوانِ سخن، 133 )
  12. ( 1928ء، دیوانِ قمر، 42:2 )
  13. ( 1926ء، شرر، گزشتہ لکھنو، 192 )
  14. ( 1784ء، سحرالبیان، 65 )
  15. ( 1928ء، سلیم (وحیدالدین)افادات سلیم، 224 )
  16. ( 1883ء، دربار اکبری، 15۔ )
  17. ( 1947ء، فرحت، مضامین، 142:3۔ )
  18. ( 1921ء، احمد رضا بریلوی، ترجمہ القرآن الحکیم، 838۔ )
  19. ( 1870ء، الماس درخشاں، 75۔ )
  20. ( 1971ء، غالب کون، 56۔ )

[ترمیم] مزید دیکھیں

ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter