ستم

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔


سِتَم {سِتَم} (فارسی)

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ 1609ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

فہرست

[ترمیم] معانی

1. ظلم، بے انصافی، اندھیر۔

"عیسائی فوجوں نے کونسا ستم ہم پر روا نہیں رکھا۔"، [1]

2. غضب، قیامت۔

"شوہر کے کچوکے، اس پر ستم شاہدہ کا مضحکہ۔"، [2]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

Tyranny, oppression, injustice, extortion, distress; violence, outrage, affliction

[ترمیم] مترادفات

جَفا، جَور، زِیادَتی، قَباحَت، ظُلْم، جَبْر، بَرْبَرِیَّت،

[ترمیم] مرکبات

سِتَم اِیجاد، سِتَم کوش، سِتَم گار، سِتَم گاری، سِتَم اَدائی، سِتَم اِیجادی، سِتَم پیشَگی، سِتَم رانی، سِتَم راں، سِتَم زَدَہ، سِتَم ظَرِیفانَہ

[ترمیم] روزمرہ جات

سِتم اٹھانا 

ظلم سہنا، جوروجفا برداشت کرنا۔

؎ ستم کیا کیا اٹھائے ہم نے تیرے، ناتواں ہو کر ہمیں کچھ امتحاں میں پورے اترے نیم جاں ہو کر، [3]

سِتم توڑنا 

شدید ظلم یا تشدد کرنا، سخت آزار پہنچانا، حشر برپا کرنا۔

"اورنگ زیب نے.... پر کیا کیا ستم توڑے"، [4]

سِتَم ڈھانا 
بہت ظلم یا تشدد کرنا، حشر برپا کرنا، شدید صورت حال پیدا کرنا۔

؎ بلاکش ہو گئے آخر بلا گرداں تھے سب جن کے ستم خوردہ ہیں وہ بھی ستم ڈھانے کے قابل تھے، [5]

کوئی عجیب بات یا انوکھا کام کرنا۔

"ہپی لڑکا ناجی کی شاعری میں کھل کھیلتا.... ستم ڈھاتا بانکپن دکھاتا.... ہے"، [6]

[ترمیم] فقرات

ستم بالائے ستم 

ایک تکلیف یا پریشانی پر دوسری تکلیف یا پریشانی، ظلم پر ظلم، ایذا پر ایذا۔

"کوہ و کمر کا حسن اور اس کے ساتھ ساتھ بھوک کی ارزانی، اور ستم بالائے ستم تنگ نظری"، [7]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1985ء، طوبٰی، 586 )
  2. ( 1919ء، جوہر قدامت، 64 )
  3. ( 1903ء، نظم نگاریں، 58۔ )
  4. ( 1982ء، آتش چنار، 649 )
  5. ( 1981ء، حرف دل رس، 48۔ )
  6. ( 1982ء، تاریخ ادب اردو، 248:1،2 )
  7. ( 1986ء، فیضان فیض، 32۔ )

[ترمیم] مزید دیکھیں

عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter