صاحب

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android


صاحِب {صا + حِب} (عربی)

ص ح ب، صاحِب

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم نیز گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1591ء کو "قصہ فیروز شاہ (قلمی نسخہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

جنسِ مخالف: صاحِبَہ {صا + حِبَہ}

جمع: صاحِبان {صا + حِبان}

جمع ندائی: صاحِبو {صا + حِبو (و مجہول)}

جمع غیر ندائی: صاحِبوں {صا + حِبوں}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. القاب جو اسماء کے بعد عزت و احترام کے لیے مستعمل ہے۔

"ایک دفعہ مہندر نے اس سے کہا کہ دلجیت کے گھر گرنتھ صاحب کا ختم ہے وہ بھی اس کے ساتھ چلے۔"، [1]

2. کلمہ تعظیم یا تخاطب؛ مراد: حضرت، جناب، آپ۔

؎ ہم سے اس درجہ تغافل بھی نہ لر تو صاحب

ہم بھی کچھ اپنی دعاؤں میں اتر رکھتے ہیں، [2]

3. آقا، مالک، مخدوم، افسر۔

"سپاہی کے واسطے کوئی چیز اس سے بہتر نہیں ہے کہ وہ اپنے صاحب کی ذات کی حفظ و حمایت میں اپنی جان فدا کرے۔"، [3]

4. شوہر، خاوند، (پیشتر خطاب کے موقع پر)۔

؎ وفورِ شرم سے حالت خراب ہے صاحب

علی کی جائی کو خوفِ عتاب ہے صاحب [4]

زوجہ، بی بی (بیشتر خطاب کے موقع پر)۔

؎ صاحب بھلا عدم کے مسافر کو کیا حجاب

ہم یوں ہیں جس طرح کہ سرِآب ہو حباب [5]

بول چال میں والدہ یا بیوی وغیرہ الفاظ کے بعد بطور تعظیم بجائے صاحبہ کے مستعمل۔

"ارے بھائی بات سمجھا کرو .... یہ مجھ سے کیسے ممکن ہے کہ میں اس کو چھوڑ دوں محض بیوی صاحب کی خاطر۔" [6]

5. دوست، رفیق، ساتھی، ہمنشین۔

؎ شقی تھا تخت حکومت پہ گرد صاحب تھے

دو رویہ کرسیوں پر سات سو مصاحب تھے [7]

محبوب یا معشوق کے لیے کلمۂ خطاب۔

؎ چپ چاپ بیٹھنے میں تو صاحب مزا نہیں

شوخی کی چھیڑ چاہیے کچھ کچھ حیا کے ساتھ [8]

6. غیر معین شخص، شریف آدمی نیز ہر شریف شخص کے لیے کلمہ خطاب۔

"میں صاحب آدمی ہوں میرا سرمایہ سب کی نظر کے سامنے ہے جس کا دل چاہے آئے دیکھ لے۔"، [9]

7. یورپین، انگریز (جو مخدوم یا افسر ہو)۔

؎ مل گیا حضرت لیڈر کو تو صاحب سے ڈنر

کیا ہوا، اس سے اگر قوم کا فاقہ نہ گیا، [10]

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

A lord, master, companion

صفت ذاتی [11]

[ترمیم] معانی

1. جس سے کوئی چیز یا بات منسوب ہو، رکھنے والا، مالک یا قابض کے معنی میں (اضافت کے ساتھ یا بلا اضافت مستعمل)۔

"آپ اپنے عہد کے مشہور واعظ اور صاحب تصنیفات کثیرہ ہیں۔"، [12]

2. { کنایۃ } خدا تعالٰی۔

"صاحب (اللہ) نے ان کی عرض سن لی اور جانوروں کی کھالوں کھروں اور سروں میں روح ڈال دی۔"، [13]

[ترمیم] مترادفات

مالِک، آقا، حاکِم، والی، ساتھی، دوسْت، جَناب، حَضْرَت، بابُو، مَولا، ذی، اَہْل، آوَر، ذُو، خُداوَنْد،

[ترمیم] مرکبات

صاحِبِ اَثَر، صاحِبِ اَخْلاق، صاحِب اِرْشاد، صاحِبِ اِسْتِطاعَت، صاحِبِ اِقْبال، صاحِبِ اِقْتِدار، صاحِبُ الْاَمْر، صاحِبُ الرّائے، صاحِبُ الزَّمان، صاحِبُ الشُّرْطَہ، صاحِبِ اَولاد، صاحِبِ اِیثار، صاحِبِ اِیجاد، صاحِبِ اِیمان، صاحِبِ باطِن، صاحِبِ بَصِیرَت، صاحِبِ تاثِیر، صاحِبِ تَدْبِیر، صاحِبِ تَرْتِیب، صاحِبِ تَقْوٰی، صاحِبِ ثَرْوَت، صاحِبِ جائِداد، صاحِبِ جَمال، صاحِبِ حال، صاحِبِ حَیثِیَّت، صاحِبِ خانَہ، صاحِبِ دِل، صاحِبِ دِیوان، صاحِبِ ذَوق، صاحِب زادَہ، صاحِبِ سَلاَمت، صاحِبِ سَلِیقَہ، صاحِبِ سَیف و قَلَم، صاحِبِ شَعُور، صاحِبِ صَدْر، صاحِبِ طَرْز، صاحِبِ عَقْل، صاحِبِ عِلاقَہ، صاحِبِ عِلْم، صاحِبِ غَرَض، صاحِبِ فِراسَت، صاحِبِ فِراش، صاحِبِ فَرْہَنْگ، صاحِبِ فِطْرَت، صاحِبِ فَن، صاحِبِ قَلَم، صاحِبِ کِتاب، صاحِبِ کَلام، صاحِبِ کَمال، صاحِبِ مَسْنَد، صاحِب نِسْبَت، صاحِبِ نَظَر، صاحِبِ وَفا، صاحِبِ ہِمَّت، صاحِبِ ہُنَر

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1966ء، انگلیاں فگار اپنی، 140 )
  2. ( 1975ء، پچھلے پہر، 74 )
  3. ( 1897ء، تاریخِ ہندوستان، 288:3 )
  4. ( 1912ء، شمیم، ریاض شمیم، 9:5 )
  5. ( 1874ء، انیس، مراثی، 94:3 )
  6. ( 1963ء، قاضی جی، 205:3 )
  7. ( 1912ء، اوج (نوراللغات) )
  8. ( 1911ء، ظہیر دہلوی، دیوان، 114:2 )
  9. ( 1970ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)697 )
  10. ( 1942ء، سنگ و خشت، 35 )
  11. ( مذکر - واحد )
  12. ( 1946ء،شیرانی، مقالات، 223 )
  13. ( 1962ء، مکایاتِ پنجاب، 88:1 )

[ترمیم] مزید دیکھیں

ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter