پاؤں

اردو_لغت سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اینڈرائیڈ اپلیکیشن اردو انسئیکلوپیڈیا کی اینڈرائیڈ اپلیکشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ابھی کلک کریں۔

Urdu Encyclopedia on Google Android

اردو
اردو نستعلیق رسم الخط میں
برصغیر پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان جس کے لغات میں پراکرت نیز غیر پراکرت، دیسی لفظوں کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی اور کچھ یورپی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اور جس کی قواعد میں عہد بہ عہد تصرفات اور مقامی اختلافات کے باوجود آریائی اثر غالب ہے۔ (ابتداءً ہندوی یا ہندی کے نام سے متعارف رہی۔


پاؤں {پا + اوں (و مجہول)} (سنسکرت)

سنسکرت سے اردو میں آیا۔ سنسکرت کے لفظ پادہ سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1609ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

متغیّرات


پانْوں {پانْو (ن مغنونہ)}

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

جمع: پاؤں {پا + اوں (و مجہول)}

فہرست

[ترمیم] معانی

1. انسان اور دو پایہ حیوان کے نچلے دو اعضاء میں سے ہر ایک جو زمین پر چلنے کا ذریعہ ہے، پیر، چرن، پد۔

"ہر صبح وہ ننگے پانْو ----- مٹرگشت کرنے لگا۔"، [1]

2. پنڈلی، گوڑ، ران، ٹانگ۔

؎ گلے میں طوق نہ پانوں میں بیڑیاں صفدر

گیا بہار کے ہمراہ ولولہ دل کا، [2]

3. { اصطلاحا }جوڑ، پایہ۔

"دو چٹانوں کو برابر رکھ کر دونوں کے سروں کے پاس سوراخ کرتے ہیں اور ان میں لوہے کے پانوں لگاتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے جڑ جاوے۔"، [3]

4. نقشِ قدم۔

؎ موزوں وہ سنگ مومنوں کا بوسہ گاہ ہے

جس میں بنے ہوئے ہیں رسول زمن کے پاوں، [4]

5. تلوا۔

؎ پایا نہ تیرے لب کے برابر کوئی عقیق

گھس گھس گئے تلاش میں اہل یمن کے پاؤں، [5]

6. جڑ، بنیاد (فرہنگ آصفیہ، 486:1)۔

7. دخل، مداخلت، قبضہ (نوراللغات، 23:2؛ فرہنگ آصفیہ، 486:1)۔

8. ثبات، استقلال، استحکام (فرہنگ آصفیہ، 486:1)

9. آخر، انجام، انتہا (فرہنگ آصفیہ، 486:1)۔

10. چال، رفتار۔

؎ یہ پینترے بھلے نہیں یہ چال چھوڑ دو

خلقِ خدا کو روندتے ہیں بانکپن کے پاؤں، [6]

11. گُن۔ (نوراللغات، 28:2)

12. ڈھنگ، آثار، علامات (فرہنگِ آصفیہ، 486:1)۔

13. (میز، پلنگ وغیرہ کا) پایہ (فرہنگ آصفیہ، 486:1)۔

14. ذمہ، ضمانت، کفالت (پلیٹس، فرہنگِ آصفیہ، 486:1)۔

15. حصہ، بخرا، بانٹ۔ (پلیٹس؛ جامع اللغات، 23:2)۔

[ترمیم] انگریزی ترجمہ

foot; leg; foot-print; basis; foundation; root; footing; foothold; part; lot; portion; interference; meddling, steadiness, decision (istiqlal), responsibility, liability

[ترمیم] مترادفات

قَدَم، پایَہ، پا،

[ترمیم] روزمرہ جات

پاءوں بچا کر رکھنا 

احتیاط کرنا۔

؎ جائے عبرت ہے بچا کر پاءوں رکھ اے باغباں تو نے سرسبزی کہیں دیکھی ہے برگِ کاہ کی، [7]

پاءوں بڑھانا 
آگے جانا، آگے چلنا؛ قدم آگے رکھنا۔

؎ سر تن سے قلم پاءو گے گر پاءوں بڑھایا، [8]

قدم بڑے بڑے رکھنا، تیز چلنا۔

؎ تیغ کھینچی ہے اگر تو پاءوں کو جلدی بڑھا مجھ تک آتے آتے کیا غصہ نہ کم ہو جائے گا، [9]

حد سے تجاوز کرنا؛ دخل اور قبضہ بڑھانا

؎ اس کے دامن کی طرف ہاتھ کھچا جاتا ہے اب تو اے شوق بہت پاءوں بڑھایا تو نے، [10]

پاءوں پر سر جھکانا 

عاجزی کرنا، خوشامد کرنا۔

؎ سجدۂِ شکر خدایا میں کیے رکھتا ہوں پاءوں پر یار کے سر کو ہے جھکانا شبِ وصل، [11]

پاءوں پر کھڑا ہونا 

خود کفیل ہونا، خود اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہونا۔

"بیاہ سے پہلے اولاد کو اپنے پاءوں پر کھڑے ہونے یعنی الگ گھر لے کر بیٹھنے کے لائق بنا دیں۔"، [12]

پاءوں پر کلہاڑی مارنا 

خود کو نقصان پہنچانا۔

"انہوں نے خود اپنے پاءوں پر کلہاڑی ماری اور اپنی پت گنوائی۔"، [13]

پاءوں پڑنا 
(کسی بات پر راضی کرنے یا عفو تقصیر کے لیے) نہایت عاجزی اور فروتنی کرنا، خوشامد درآمد کرنا۔

"خوب خوشامد کرو، ناک رگڑو، پاءوں پڑو تو رادھا مانیں۔"، [14]

قدم بوسی کرنا، قربان جانا، اظہارِ عجز کرنا۔

؎ دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پانو ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پانو، [15]

پاءوں پھسلنا 
لڑکھڑانا، رپٹنا، گیلی یا چکنی زمین پر پاءوں کا بے قابو ہو جانا۔

؎ یہ خاکہ اڑاتی ہے سبک گامی کا تیری پھسلے نہ کہیں پاءوں نسیم سحری کا، [16]

ڈگمگانا، ثابت قدم نہ رہنا

؎ اس کے کوچے میں ہے ثابت قدمی کا کیا ذکر یہاں زاہد کے بھی ہیں پاءوں پھسلنے کے لیے، [17]

پاءوں اکھاڑنا 

بھگا دینا، مقابلے میں جمنے نہ دینا، پسپا کرنا، ہرا دینا۔

اسمعیل بیگ کے رسالے نے پہلے ہی حملے میں مرہٹوں کے پاتں اکھاڑ دیئے۔"، [18]

پاءوں باہر نکالنا 
کسی کا گھر سے باہر جانا، بے پردہ ہونا، آوارگی اختیار کرنا۔

"وہ جانا اور ہے اور گھر سے لڑ کر بے حکم پاءوں باہر نکالنا دوسری بات ہے۔"، [19]

اپنی حد سے بڑھنا، بڑھ کر چلنا، اترانا، گھمنڈ کرنا (نوراللغات، 28:2)

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ( 1941ء، پیاری زمین، 53 )
  2. ( 1878ء، کلیاتِ صفدر، 21 )
  3. ( 1889ء، مقالاتِ سرسید، 95:6 )
  4. ( 1861ء، سراپا سخن، موزوں، 353 )
  5. ( 1861ء، سراپا سخن، موزوں، 353 )
  6. ( 1876ء، بحر (نوراللغات، 28:2) )
  7. ( 1831ء، دیوانِ ناسخ، 140:2 )
  8. ( 1900ء، امیر (نوراللغات، 30:2) )
  9. ( 1874ء، عاشق (نوراللغات، 29:2) )
  10. ( 1927ء، شاد، میخانۂ الہام، 360 )
  11. ( 1846ء، آتش، کلیات، 94 )
  12. ( 1906ء، الحقوق و الفرائض، 191:2 )
  13. ( 1891ء، رسالہ و حسن، 4، 9:5 )
  14. ( 1957ء، لکھنءو کا شاہی اسٹیج، 102 )
  15. ( 1869ء، غالب، دیوان، 130 )
  16. ( 1938ء، ترانۂ مسرت، 27 )
  17. ( 1896ء، تجلیاتِ عشق، 345 )
  18. ( 1930ء، فرحت، مضامین، 107:3 )
  19. ( 1877ء، توبۃ النصوح، 214 )
عرض ناشر
لغت کو ممکنہ غلطیوں سے پاک کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے پھر بھی انسان خطا کا پتلا ہے لغت کو مزید بہتر بنانے کے لئے یا لغت کے استعمال میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں admin@urduencyclopedia.org سے رابطہ کریں۔
ذاتی اوزار
متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
اوزاردان
دیگر شعبہ جات
Besucherzahler brides of ukraine
website counter